Friday, November 9, 2012

بھارتی فوج میں اخلاقی اقدار کا انحطاط


بھارتی فوج میں اخلاقی اقدار کا انحطاط … (۱)
| ـ 3 اکتوبر ، 2009
سکندر خان بلوچ ۔۔۔
جنگی تاریخ کی یہ ایک حقیقت ہے کہ شکست و فتح کا فیصلہ ہمیشہ میدان جنگ میں نہیں بلکہ اکثر اوقات جنگ لڑنے والی فوجوں کے ذہنوں میں جنگ شروع ہونے سے بھی پہلے ہو جاتا ہے۔جو فوج اعلیٰ اخلاقی اقدار سے لیس ہو کر میدان جنگ میں داخل ہوتی ہے اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتی ہے وہ نہ صرف اپنی بہت سی جنگی خامیوں پر قابو پا لیتی ہے 
بلکہ اکثر و بیشتر اپنے سے بڑی فوجوں کو شکست دیکر فتح سے ہمکنار ہوتی ہے۔اعلیٰ اخلاقی اقدار جنگی سپاہیوں کے دل و دماغ کو ’’جذبہ حق‘‘ کی روشنی سے منوّر کرتی ہیں اور یہ روشنی اعلیٰ ’’مورال‘‘ کی بنیاد بنتی ہے۔
فوجی اصطلاح میں ’’مورال‘‘فتح کیلئے سب سے بڑا ہتھیار ہے۔اسی لئے موجودہ دور کی جنگوں میں سب سے پہلا حملہ مخالف فوجوں کے ’’ مورال‘‘ پر کیا جاتا ہے۔با الفاظ دیگر انکی اخلاقی اقدار کو مجروح کر کے دشمن کے سپاہیوں سے’’ فتح کا جذبہ‘‘چھین لیا جاتا ہے اور بغیر اس جذبے کے فوج میدان جنگ میں تو جا سکتی ہے لیکن کامیابی مشکل ہو جاتی ہے۔
یاد رہے کہ زندگی میں بھی اور جنگ میں بھی سپاہی کا ذاتی کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ 1971ء کی جنگ میں بھارت نے جنگ سے پہلے پاکستانی فوج کی ’’اخلاقی اقدارــ ‘‘ پر حملہ کیا تھا وہ یوں کہ 12/13نومبر 1970ء کو مشرقی پاکستان میں ایک بہت بڑا سمندری طوفان آیاجسے سول انتظامیہ نے اپنے طور پر سنبھالنے کی کوشش کی۔جب فوج کو مدد کیلئے بلایا گیا تو مال و املاک کے علاوہ بہت زیادہ انسانی تباہی ہو چکی تھی۔بھارت نے اس سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا۔انسانی لاشوں کی فلمیں بنائیں۔ پاکستان مخالف بنگالیوں کے انٹرویو ریکارڈ کیے اور انسانی تباہی کی یہ فلمیں اور نشریات پوری دنیا میں پھیلا دیںاور یہ سب تباہی پاکستان آرمی کے ذمہ لگا دی۔اس تباہی کیساتھ ساتھ خواتین کے ریپ اور بے حرمتی کی بھی منظم مہم چلائی جو دراصل مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے غنڈوں کی ملی بھگت کا نتیجہ تھی۔اس مہم کو اس حد تک بڑھایا گیا کہ جنگ کے بعد پاکستان فوج کو تین لاکھ عورتوں کی آبرو ریزی اور تیس لاکھ بے گناہ انسانوں کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیاجبکہ بعد میں نہ تو اقوام متحدہ کی انکوائری ہوئی اور نہ ہی کوئی ایسا بڑا جرم ثابت ہوا ۔ان واقعات کی تفصیل پھر کسی وقت۔
اصل جنگ تو نومبر 1971ء میں شروع ہوئی لیکن بھارتی پروپیگنڈہ نے نومبر 1970ء میں ہی ہماری فوج پر ایسے بیہودہ الزامات لگا کر فوج کو نہ صرف اپنی ہی قوم کے سامنے بلکہ پوری دنیا میں بدنام کر دیابلکہ مجرم بنا دیا۔بعد میں کچھ بھارتی جرنیلوں نے کھلم کھلا لکھا کہ ہم نے جنگ سے پہلے ہی پاکستان فوج کی اخلاقی اقدار پر حملہ کر کے انہیں تباہ کر دیا تھا۔
معزز قارئین! اخلاقی اقدار کسی بھی شخص، کسی بھی قوم یا کسی بھی فوج کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتی ہیں اور یہ سرمایہ فوج اور قوم کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ اخلاقی اقدار کا انحطاط کئی انداز میں ظاہر ہوتا ہے اور دیمک کی طرح خاموشی سے قوموں کو یا اداروں کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔اس وقت کچھ ایسی ہی حالت بھارتی فوج کی ہے۔
بھارتی فوج اس وقت دنیا کی چوتھی بڑی اور جدید فوج گنی جاتی ہے۔عددی لحاظ سے بھی اور فائر پاور کے لحاظ سے بھی۔بھارتی عوام اپنی فوج اور اپنی کرکٹ ٹیم پر ناز کرتے ہیں جس کیلئے وہ حق بجانب ہیں۔لیکن یہ فوج کافی عرصہ سے آہستہ آہستہ اپنی اخلاقی اقدار کھو رہی ہے خصوصاََ 1971ء کی جنگ کے بعد سے اور شاید یہ اخلاقی اقدار کا انحطاط اعلیٰ قیادت تک سرایت کر گیا ہے۔
مثلاََ حال میں مختلف رپورٹس سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ 1998ء میں بھارتی سائنسدانوں نے پوکھران کے مقام پر جو ایٹمی دھماکے کئے تھے وہ مکمل طور پر کامیاب نہ تھے۔اسی طرح اگنی اور براہموس میزائلوں کے تجربے بھی ناکام تھے جنہیں فقط قوم کا مورال بلند رکھنے کیلئے پریس اعلانات میں کامیاب قرار دیا گیا۔یعنی یہ قوم کیساتھ کھلا جھوٹ تھا جو یقینا اخلاقی دیوالیہ پن کا بہت بڑا ثبوت ہے۔عین ممکن ہے کہ یہ کوئی سیاسی کھیل ہو لیکن جو اطلاعات اور میڈیا رپورٹس بھارتی فوج کے بارے میں ہیں ان میں کسی قسم کا شک نہیں۔
اخلاقی انحطاط کا سب سے بڑا مظہر ’’کرپشن‘‘ ہے جو بھارتی فوج میںایک معمول بن چکی ہے جس میں سویلین بزنس مین،سیاستدان اور جرنیل سب ایک ہیں اور سب مل کر کھاتے ہیں‘اسی لئے ایک بھارتی لکھاری نے اس کرپشن پر بحث کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارے جرنیلوں کے ہاتھ ہمارے سولجرز کے خون سے رنگے ہیں۔
ویسے تو بھارتی فوج کی کرپشن کے قصے 1950ء سے ہی شروع ہو گئے تھے جس کا خمیازہ بھارت کو 1962ء میں ہند چینی جنگ میں بھگتنا پڑا لیکن وقت کیساتھ ساتھ یہ ناسور ختم ہونے کی بجائے بڑھتا رہا۔اس کرپشن کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ آہستہ آہستہ سیاستدان بھی اس میں ملوث ہو گئے اور پہلا ایسا واقعہ 1986ء میں منظر عام پر آیا جب بھارت نے سویڈن سے ’’بوفورز‘‘ نامی توپیں خریدیں۔
کچھ اطلاعات کیمطابق اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے جو اس سے پہلے ’’مسٹر کلین‘‘ سمجھے جاتے تھے 64کروڑ ڈالر کمیشن وصول کیا۔اب ظاہر ہے جب وزیر اعظم اتنا کمیشن لے گا تو اس ڈیل کے باقی متعلقہ لوگ کیسے پیچھے رہیں گے؟ یہ توپیں پہلی دفعہ پاکستان کیخلاف 1999ء میں کارگل میں استعمال کی گئیں۔پاکستانی پوزیشنز پر ان توپوں سے ایک ایک انچ زمین پر گولے برسائے گئے لیکن پھر بھی بھارتی فوج پاکستانی کمانڈوز کو مورچوں سے نکالنے میں ناکام رہی بالآخر اسرائیل سے مدد حاصل کرنی پڑی۔
یاد رہے کہ جہاں ڈیل میں کمیشن اور کِک بیکس ہوتی ہیں وہاں ’’مطلوبہ معیار‘‘ کبھی نہیں ملتا۔ راجیو گاندھی کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے اسی سال فروری میں بھارت نے اسرائیل سے 10ارب روپے کے میزائل اور دیگر جدید فوجی سامان کا سودا کیا۔میڈیا کیمطابق اس میں 10فیصد کمیشن حاصل کیا گیااور انگلیاں بھارت کی ٹاپ لیڈی سونیا گاندھی کی طرف اُٹھیں ۔اس ڈیل سے یقینااور بھی بہت سے لوگ مستفیض ہوئے۔ (جاری ہے)
بھارتی فوج میں اخلاقی اقدار کا انحطاط … (آخری قسط)
| ـ 4 اکتوبر ، 2009
سکندر خان بلوچ ۔۔۔
کارگل کے حوالے سے ایک اور بڑی کرپشن بھی سامنے آئی۔ وہ یہ کہ اس جنگ میں مرنے والے سپاہیوں اور افسروں کیلئے جب لوکل وسائل سے میّتوںکیلئے تابوت کم پڑ گئے تو 420 المونیم کے بنے تابوتوں کیلئے ایک امریکی فرم کو آرڈر دیا گیا اور قیمت 2500 ڈالر فی تابوت طے کی گئی جبکہ دو سال پہلے یہی تابوت بھارتی فوج نے اقوام متحدہ کے تحت اپنی فوج کے صومالیہ میں مرنے والے سپاہیوں کیلئے 172ڈالر فی تابوت خرید کئے تھے اور پھر سب سے شرمناک بات یہ ثابت ہوئی کہ اتنے مہنگے بنوائے گئے تابوت جب بھارت پہنچے تو وہ اتنے گھٹیا تھے کہ انہیں نا قابلِ استعمال قرار دے دیا گیا۔
بھارتی افواج میں کرپشن ایک مافیا کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اسکی ایک مثال چند سال پہلے اُس وقت سامنے آئی جب ’’بلند مقامات‘‘ پر رکھے گئے ٹروپس کیلئے ’’برفانی بوٹس‘‘ خرید کر بھیجے گئے جو لاکھوں کی تعداد میںتھے لیکن یہ بوٹس منفی 15 ڈگری کے برفانی موسم میں بھی بیکار ثابت ہوئے جبکہ بھارتی ٹروپس سیاچن، کشمیر، سکم اور نیفا کے بعض علاقوں میں منفی 40 سے 50 ڈگری ٹمپریچر میں رہ رہے ہیں جہاں موسم کی شدت کے علاوہ سخت برفانی طوفانوں کا بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پے در پے اموات ہوئیں۔ 320 جوان صرف سیاچن کے محاذ پر شدید موسم سے لقمۂ اجل بنے۔ بعد میںکمپٹرولر آڈیٹر جنرل آف انڈیا (CAG) نے آڈٹ کے دوران یہ فراڈ پکڑا۔ اس کارنامے میں بھارتی فوج کے (MGO) یعنی ماسٹر جنرل آف آرڈیننس جو لیفٹیننٹ جنرل رینک کا افسر ہوتا ہے، اسکی سٹاف ٹیم، کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران جو ٹھیکیداری کرتے ہیں اور ’’برفانی بوٹس‘‘ بنانے والی فرم کے مالکان ملوث پائے گئے یعنی یہ سب کی ملی بھگت تھی۔ سپلائی کور کے ایک جنرل صاحب نے ڈیزل اور پٹرول کے بھرے ٹرکوں سے پٹرول نکلوا کر پانی بھرا دیا اور یہ ٹرک کشمیر اور سیاچن بھجوا دئیے۔
2001ء میں تہلکہ ٹی وی نے کرپشن کا ایک مشہور کیس پکڑا تھا جس میں لاکھوں ڈالرز کی رشوت کھائی گئی تھی جب انکوائری ہوئی تو اس میں وزیر دفاع جارج فرنینڈس کے علاوہ سی بی آئی کے انچارج جیا جیٹلے اور نیول چیف آف سٹاف ایڈمرل سوشیل کمار ملوث پائے گئے۔ اسی کیساتھ 6 ارب روپے کی کرپشن کا ایک اور کیس بھی سامنے آیا۔
اس کرپشن کیلئے بھارتی ایئر لائن کے باس رمیش نمبیار اور اسکے اسسٹنٹ جنرل منیجر کو پکڑا گیا جنرل منیجر صاحب سے 6 ارب روپے ملے اور اسسٹنٹ سے .2 2 ارب روپے۔ 2006ء میں ڈیرہ دون ڈویژن کے جی او سی نے اپنے کچھ آفیسرز کیساتھ مل کر تین ٹرک شراب چرائی اور کیس پکڑا گیا۔ 10 اکتوبر 2007ء کو ایک میگا کرپشن کیس میں 25 حاضر سروس آفیسرز کو زیر حراست لیا گیا جس میں MGO جنرل آنند کپور سمیت 2 لیفٹیننٹ جنرل اور 6 میجر جنرل ملوث پائے گئے۔ ان 25 افسران میں سے 17کا تعلق آرمی سے، ایک ایئر فورس سے اور 7 کا تعلق نیوی سے تھا۔بھارتی فوج میں کرپشن نے تمام برانچز کو متاثر کیا ہے۔
ستمبر 2007ء میں حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل ساہنی، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ایس کے داہیا کے علاوہ 4 میجر جنرلز، 2 بریگیڈئیرز اور 8 دوسرے آفیسرز کو زیرحراست لیکر ان پر مقدمات چلائے گئے۔ یہ سب فوج کیلئے گھٹیا راشن کی خرید میں ملوث پائے گئے تھے‘ انہوں نے ایک ہزار ٹن دال مسور خریدی جو سب کی سب بیکار پائی گئی۔ اسی راشن اور بقیہ ضروری اشیأ کی خرید میں لیفٹیننٹ جنرل نربھے شرما، میجر جنرل ایس پی سنہا اور لیفٹیننٹ جنرل ڈھلوں بھی ملوث پائے گئے جن کیخلاف کارروائی کی گئی۔ 21 سینئر افسران کے کیسز پارلیمنٹ میں بھی زیر بحث لائے گئے۔
ہتھیاروں، راشن اور بقیہ ضروریات زندگی کی خرید میں کرپشن کے علاوہ بھارتی فوج کا سب سے بڑا المیہ اس وقت دور دراز علاقوں میں خدمات سر انجام دینے والے ٹروپس میں پست مورال، بھگوڑا پن، خود کشیاں، اپنے آفیسرز پر حملہ آور ہونا اور جنسی سکینڈل ہیں اور یہ سب کچھ اخلاقی اقدار کے انحطاط کا نتیجہ ہے۔ اخلاقی اقدار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ستمبر 2007ء میں بھارتی فوج کے مایہ ناز نمبر 3 انفنٹری ڈویژن کو میجر جنرل اے کے لال کمان کر رہا تھا۔ یہ ڈویژن لیہہ میں متعین تھا۔
جنرل لال ایک پروفیشنل اور قابل جرنیلوں میں شمار ہوتا تھا لیکن اچانک اسے کمان سے ہٹا لیا گیا۔ پتہ چلا کہ وہ اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکا تھا۔ اپنے ہی ڈویژن کی ماتحت خواتین آفیسرز کو ریپ کرنے کی کوشش میں ملوث پایا گیا۔ انڈین نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کیمطابق 1990ء سے لیکر 1999ء تک کشمیر میں مقیم بھارتی فوج کے 1034 انسانی حقوق سے تجاوز کیسز سامنے آئے جن میں ریپ، دہشت گردی، اغوا اور معصوم انسانوں کے قتل جیسے گھناؤنے اور غیر انسانی جرائم شامل ہیں۔ یہ تو صرف وہ کیسز ہیں جن کا کسی نہ کسی طرح پتہ چل گیا‘ ورنہ ’’آف رپورٹڈ‘‘ کیسز ان سے کئی گنا زیادہ ہیں بہرحال رپورٹڈ کیسز کی تعداد اوسطاً 109کیسز سالانہ ہے۔
اسکے علاوہ بھارتی فوج کے افسران فرضی جنگی لڑائیاں اور فرضی بہادری کے کیسز بتا کر انعامات اور تمغے حاصل کرنے میں بھی ماہر ہو گئے ہیں۔ ہر آفیسر اور ہر جوان چھاتی پر تمغے سجانے کی شدید خواہش میں اس طرح کے من گھڑت واقعات لکھ کر اپنے افسران کو پیش کرتے ہیں جو کہ سراسر جھوٹ اور فراڈ کے زمرے میں آتے ہیں۔ آفیسرز اور جوانوں کی ایسی گھٹیا حرکت کا اندازہ 3 اکتوبر 2005ء کو ٹائمز آف انڈیا کی ایڈیٹوریل رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ آفیسرز اور جوانوں میں شراب بیچنے جیسے سکینڈل اور جعلی مقابلوں سے بہادری کے میڈل حاصل کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ سزاؤں اور کورٹ مارشلز کے باوجود ایسے کیسز روز بہ روز بڑھ رہے ہیں۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ بھارتی افواج میں 2000ء میں 1215، 2001ء میں 1034، 2002ء میں 1031، 2004ء میں 872 اور 2005ء میں 6000 جوانوں اور آفیسرز کے کورٹ مارشل یا ان کیخلاف تادیبی کارروائی کی گئی لیکن پھر بھی اس قسم کی غیر اخلاقی عادات میں کمی نہیں آئی۔
کسی بھی اچھی اور منظم فوج میں اس قدر ڈسپلن کے مسائل اور کورٹ مارشلز واقعی حیران کن ہیں۔ ان بڑھتے ہوئے ڈسپلن کے مسائل کا بھارتی فوج نے ایک تفصیلی تجزیہ کیا ہے اور رپورٹ کیمطابق اس مسئلے کی جڑ جوانوں کا اتنا عرصہ اپنی فیملیز سے دور رہنا ہے۔ جوانوں کو بہت زیادہ چھٹیاں دینا ممکن نہیں اور نہ ہی یونٹوں کو ہر دو یا تین ماہ بعد فرنٹ لائن سے پیچھے لایا جا سکتا ہے۔ انگریز دور میں تو ایسے ٹروپس کیلئے خواتین سنگرز اور ایکٹرز کی انٹرٹینمنٹ پارٹیاں فرنٹ لائن پر بھیجی جاتی تھیں۔ بھارتی جنرل ہیڈ کوارٹر نے یہ روایت تو برقرار رکھی ہے لیکن ڈسپلن کے مسائل پر پھر بھی قابو نہیں پایا جا سکا۔ اب اسکا حل بھارتی فوج نے یہ نکالا ہے کہ اس نے نوجوان لڑکیوں کو برائے نام فوجی تربیت دیکر یونیفارم پہنا دی ہے۔ غالباََ انہیں ’’سیکس بٹالین‘‘ کا نام دیا گیا ہے یا ایسا نام مشہور ہو گیا ہے۔ عام لوگ انہیں Prostitutes in Uniform کہتے ہیں۔ عام فوجیوں کی طرح یہ بٹالین بھی کشمیر، سیاچن کی فرنٹ لائن پر متعین کی جائیں گی۔ پہلی ایسی بٹالین شاید اگلے ماہ تک کشمیر کے محاذ پر ’’ڈپلائے‘‘ کر دی جائیگی۔
لطف کی بات یہ ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ یونٹیں چھاونیوں کی بجائے اگلے محاذ پر ہوں گی۔ یہ تو اب وقت ہی ثابت کریگا کہ آیا یہ بھارتی فوجی جوانوں کا مورال بلند کرنے کیلئے آئی ہیں یا پھر پاکستانی جوانوں پر پٹو ڈالنے کیلئے۔ بہرحال جنوبی ایشیا کیلئے یہ بڑا دلچسپ اور انوکھا تجربہ ہے یا پھر شاید پاکستانی فوجی جوانوں کیخلاف نئی چال ہے کیونکہ اکثر اوقات جو کام مرد نہیں کر سکتے عورتیں کر گزرتی ہیں‘ خواتین بہترین جاسوس ثابت ہوتی ہیں۔
جہاں تک بھارتی فوج کی موجودہ جنگی تیاری کی صورتحال ہے اُس کیلئے ایک حالیہ بھارتی اخباری رپورٹ حاضر خدمت ہے ’’بھارتی سپاہیوں کے زیر استعمال ہر تین میں سے ایک ہینڈ گرنیڈ نہیں پھٹتا جبکہ انکی رائفلوں کا دہشت گردوں کی رائفلوں سے مقابلہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی فوج کے گرنیڈ پھٹنے میں دہشت گردوں کے گرنیڈ سے 1.5سیکنڈ زیادہ لیتے ہیں جبکہ جنگ اور دہشت گردی میں ہر سیکنڈ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ جوانوں کی رائفلیں بھی گھٹیا اور غیر مؤثر ہیں۔ اسی وجہ سے ممبئی دہشت گردی کے واقعہ میں فوج اور پولیس کچھ نہیں کر سکی۔ ایسے ہتھیار دیکر تو سولجرز کو سراسر مروانے والی بات ہے۔‘‘
میری رائے میں بھارتی فوج کے موجودہ حالات کا تجزیہ ہماری افواج کے’’ٹاپ براسز‘‘ کیلئے بہت ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں بلکہ اپنی اصلاح بھی کر سکتے ہیں جو کہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
 — ‎with ‎‎‎‎‎Pakistan Hamari Pehchan, ‎‎ثاقب مس


بیٹی



بیٹی
دور جہالت کے پروردہ ایک شخص نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا کے ساتھ نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کا عالم دیکھا تو حیرت زدہ رہ گيا ۔ آنکھوں سے آنسو نکل آئے سوچنے لگا کہ آہ کس بے دردی سے میں نے اپنی پارۂ جگر کو صرف دور جہالت کی عصبیت کی بنا پر زندہ در گور کر دیا تھا۔ اور پھر نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے استفسار پر اپنی داستان بیان کرنا شروع کردی ۔
__________________________
_____________
میری بیوی حاملہ تھی ، ان ہی دنوں میں ایک سفر پر مجبور ہوگیا عرصے بعد پلٹ کر آیا تو اپنے گھر میں ایک بچی کو کھیلتے دیکھا بیوی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو بیوی نے کہا یہ تمہاری بیٹی ہے اور پھر کسی نامعلوم خوف کے تحت، التجا آمیزلہجے میں کہا: ذرا دیکھو تو کس قدر پیاری بچی ہے اس کے وجود سے گھر میں کتنی رونق ہے، یہ اگر زندہ رہے گی تو تمہاری یادگار بن کر تمہارے خاندان اور قبیلے کا نام زندہ رکھے گی۔ میں نے گردن جھکا لی، بیوی کو کوئی جواب دیے بغیر لڑکی کو بغور دیکھتا رہا لڑکی کچھ دیر تو اجنبی نگاہوں سے مجھے تکتی رہی پھر نہ جانے کیا سوچ کر بھاگتی ہوئی آئی اور میرے سینے سے لپٹ گئی، میں نے بھی جذبات کی رو میں اس کوآغوش میں بھر لیا اور پیار کرنے لگا کچھ عرصہ یونہی گزر گیا لڑکی آہستہ آہستہ بڑی ہوتی رہی اور ہوشیار ہوئی سن بلوغ کےقریب پہنچ گئی اب ماں کو میری طرف سے بالکل اطمینان ہو چکا تھا میرا رویہ بھی بیٹی کے ساتھ محبت آمیز تھا ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا: ذرا اس کو بنا سنوار دو،میں قبیلے کی ایک شادی میں اسے لے جاؤں گا ماں بیچاری خوش ہو گئی اور جلدی سے سجا سنوار کر تیار کردیا۔ میں نے لڑکی کا ہاتھ پکڑ ا اور گھر سے روانہ ہوگيا۔ ایک غیر آباد بیابان میں پہنچ کر پہلے سے تیار شدہ ایک گڑھے کے قریب میں کھڑا ہوگیا لڑکی جو بڑی خوشی کے ساتھ اچھلتی کودتی چلی آرہی تھی میرے قریب آ کر رک گئی اور بڑی معصومیت سے سوال کیا: بابا یہ گڑھا کا ہے کے لیے ہے؟ میں نے سپاٹ لہجے میں اس سے کہا: اپنے خاندانی رسم و رواج کے مطابق میں تم کو اس میں دفن کردینا چاہتا ہوں تاکہ تمہاری پیدائش سے ہمارے خاندان اور قبیلے کو جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے اس سے نجات مل جائے۔ لڑکی کو صورت حال کا اندازہ ہوا تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گيا اور قبل اس کے اس کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار ہو، میں نے اس کو گڑھے میں دھکیل دیا ۔ لڑکی دیر تک روتی اور گڑ گڑاتی رہی لیکن مجھ پر اس کے نالہ و فریاد کا کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے گڑھے کو مٹی سے بھر دیا ، اگرچہ آخر وقت تک وہ ہاتھ اٹھائے مجھ سے زندگی کی التجا کر رہی تھی لیکن افسوس! میں نے اپنے دل کے ٹکڑے کو زندہ در گور کردیا لیکن اس کی آخری التجا اب بھی میرے کانوں میں لاوے ٹپکاتی رہتی ہے: " بابا تم نے مجھے تو دفن کردیا لیکن میری ماں کوحقیقت نہ بتانا کہہ دینا کہ میں بیٹی کو اپنے قبیلے والوں میں چھوڑ آیا ہوں"۔
_______________________________________
اپنے عرب صحابی سے ایک بیٹی کے زندہ درگور کر دیے جانے کی داستان سنی تو حضور صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوگیا ۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش میں جناب فاطمہ سلام اللّہ علیہا بیٹھی ہوئی تھیں ان کی آنکھوں میں بھی نمی نظر آئی نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور آپ صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے ہونٹوں پر یہ جملے جاری ہوگئے: بیٹی تو رحمت ہے اور پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: میں فاطمہ کو دیکھ کر اپنے مشام جان کو بہشت کی خوشبو سے معطر کرتا ہوں۔
_______________________________________
بار الٰہی میں تجھ سے موت کے وقت آرام و راحت اور قیامت کے حساب و کتاب کے وقت عفوو مغفرت کا طالب ہوں
میری بیوی حاملہ تھی ، ان ہی دنوں میں ایک سفر پر مجبور ہوگیا عرصے بعد پلٹ کر آیا تو اپنے گھر میں ایک بچی کو کھیلتے دیکھا بیوی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو بیوی نے کہا یہ تمہاری بیٹی ہے اور پھر کسی نامعلوم خوف کے تحت، التجا آمیزلہجے میں کہا: ذرا دیکھو تو کس قدر پیاری بچی ہے اس کے وجود سے گھر میں کتنی رونق ہے، یہ اگر زندہ رہے گی تو تمہاری یادگار بن کر تمہارے خاندان اور قبیلے کا نام زندہ رکھے گی۔ میں نے گردن جھکا لی، بیوی کو کوئی جواب دیے بغیر لڑکی کو بغور دیکھتا رہا لڑکی کچھ دیر تو اجنبی نگاہوں سے مجھے تکتی رہی پھر نہ جانے کیا سوچ کر بھاگتی ہوئی آئی اور میرے سینے سے لپٹ گئی، میں نے بھی جذبات کی رو میں اس کوآغوش میں بھر لیا اور پیار کرنے لگا کچھ عرصہ یونہی گزر گیا لڑکی آہستہ آہستہ بڑی ہوتی رہی اور ہوشیار ہوئی سن بلوغ کےقریب پہنچ گئی اب ماں کو میری طرف سے بالکل اطمینان ہو چکا تھا میرا رویہ بھی بیٹی کے ساتھ محبت آمیز تھا ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا: ذرا اس کو بنا سنوار دو،میں قبیلے کی ایک شادی میں اسے لے جاؤں گا ماں بیچاری خوش ہو گئی اور جلدی سے سجا سنوار کر تیار کردیا۔ میں نے لڑکی کا ہاتھ پکڑ ا اور گھر سے روانہ ہوگيا۔ ایک غیر آباد بیابان میں پہنچ کر پہلے سے تیار شدہ ایک گڑھے کے قریب میں کھڑا ہوگیا لڑکی جو بڑی خوشی کے ساتھ اچھلتی کودتی چلی آرہی تھی میرے قریب آ کر رک گئی اور بڑی معصومیت سے سوال کیا: بابا یہ گڑھا کا ہے کے لیے ہے؟ میں نے سپاٹ لہجے میں اس سے کہا: اپنے خاندانی رسم و رواج کے مطابق میں تم کو اس میں دفن کردینا چاہتا ہوں تاکہ تمہاری پیدائش سے ہمارے خاندان اور قبیلے کو جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے اس سے نجات مل جائے۔ لڑکی کو صورت حال کا اندازہ ہوا تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گيا اور قبل اس کے اس کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار ہو، میں نے اس کو گڑھے میں دھکیل دیا ۔ لڑکی دیر تک روتی اور گڑ گڑاتی رہی لیکن مجھ پر اس کے نالہ و فریاد کا کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے گڑھے کو مٹی سے بھر دیا ، اگرچہ آخر وقت تک وہ ہاتھ اٹھائے مجھ سے زندگی کی التجا کر رہی تھی لیکن افسوس! میں نے اپنے دل کے ٹکڑے کو زندہ در گور کردیا لیکن اس کی آخری التجا اب بھی میرے کانوں میں لاوے ٹپکاتی رہتی ہے: " بابا تم نے مجھے تو دفن کردیا لیکن میری ماں کوحقیقت نہ بتانا کہہ دینا کہ میں بیٹی کو اپنے قبیلے والوں میں چھوڑ آیا ہوں"۔
_______________________________________
اپنے عرب صحابی سے ایک بیٹی کے زندہ درگور کر دیے جانے کی داستان سنی تو حضور صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوگیا ۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش میں جناب فاطمہ سلام اللّہ علیہا بیٹھی ہوئی تھیں ان کی آنکھوں میں بھی نمی نظر آئی نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور آپ صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے ہونٹوں پر یہ جملے جاری ہوگئے: بیٹی تو رحمت ہے اور پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: میں فاطمہ کو دیکھ کر اپنے مشام جان کو بہشت کی خوشبو سے معطر کرتا ہوں۔
_______________________________________
بار الٰہی میں تجھ سے موت کے وقت آرام و راحت اور قیامت کے حساب و کتاب کے وقت عفوو مغفرت کا طالب ہوں

الکزنڈر دی گریٹ یعنی سکندر اعظم - بمعنی فاتح اعظم



ہم نے بچپن میں پڑھا تھا کہ مقدونیہ کا الکزنڈر ٢٠ سال کی عمر میں بادشاہ بنا، ٢٣ سال کی عمر میں مقدونیہ سے نکلا، سب سے پہلے یونان فتح کیا پھر ترکی میں داخل ہوا، پھر ایران کے دارا کو شکست دی، پھر شام میں داخل ہوا اور وہاں سے یروشلم اور بابل کا رخ کیا اور پھر مصر پہنچا- وہاں سے ہندوستان آیا اور راجہ پورس کو شکست دی، اپنے عزیز از جان گھوڑے کی یاد میں پھالیہ شہر آباد کیا اور پھر مکران کے راستے واپسی کے 
سفر میں ٹائیفوایڈ میں مبتلا ہو کر بخت نصر کے محل میں ٣٣ سال کی عمر میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا- دنیا کو بتایا گیا کہ وہ اپنے وقت کا عظیم فاتح جنرل اور بادشاہ تھا اور اسی وجہ سے دنیا اس کو الکزنڈر دی گریٹ یعنی سکندر اعظم - بمعنی فاتح اعظم - کے لقب سے یاد کرتی ہے

آج اکیسویں صدی میں دنیا کے مورخین کے سامنے یہ سوال رکھا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے ہوتے ہوے کیا واقعی الکزنڈر فاتح اعظم کے لقب کا حقدار ہے ؟ سوچئے، الکزنڈر جب بادشاہ بنا تو اسے بہترین ماہروں نے گھڑ سواری اور تیراندازی سکھائی، اسے ارسطو جیسے استادوں کی صحبت ملی اور جب ٢٠ سال کا ہوا تو تخت و تاج پیش کر دیا گیا - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی سات پشتون میں کوئی بادشاہ نہیں گزرا تھا اور وہ اونٹ چراتے چراتے جوان ہوئے تھے- آپ نے نیزہ بازی اور تلوار چلانے کا ہنر بھی کسی استاد سے نہیں سیکھا تھا - الکزنڈر نے ایک منظم فوج کے ساتھ دس برسوں میں ١٧ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا، جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے بغیر کسی بڑی منظم فوج کے دس برسوں میں ٢٢ لاکھ مربع میل کا علاقہ زیرنگوں کیا جس میں روم اور ایران کی دو عظیم مملکت بھی شامل ہیں

یہ تمام علاقہ جو گھوڑوں کی پیٹھ پر سوار ہو کر فتح ہوا اس کا انتظام و انصرام بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے بہترین انداز میں چلایا- الکزنڈر نے جنگوں کے دوران بے شمار جرنیلوں کا قتل بھی کرایا اور اس کے خلاف بغاوتیں بھی ہوئیں- ہندوستان میں اسکی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار بھی کیا لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے کسی ساتھی کو انکے کسی حکم کی سرتابی کی جرات نہ تھی وہ ایسے جرنیل تھے کہ عین میدان جنگ میں حضرت خالد بن ولید جیسے سپہ سالار کو معزول کیا، حضرت سعد بن ابی وقاص کو کوفے کی گورنری سے ہٹایا، حضرت حارث بن کعب سے گورنری واپس لی، حضرت عمرو بن العاص کا مال ضبط کرنے کا حکم دیا اور حرص کے علاقے کے ایک اور گورنر کو واپس بلا کر سزا کے طور اونٹ چرانے پر لگا دیا- آپ کے ان تمام سخت فیصلوں کے خلاف کسی کو حکم عدولی کی جرات نہ ہوئی سب کو معلوم تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ فیصلہ صرف عدل کی بنیاد پر کرتے ہیں اور عدل کے خلاف وہ کچہ برداشت نہیں فرماتے

الکزنڈر نے ١٧ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا لیکن دنیا کو کوئی نظام نہ دے سکا - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے دنیا کو ایسے ایسے نظام دیے جو آج تک تک کسی نہ کسی شکل میں پوری دنیا میں رائج ہیں - دینی فیصلوں میں آپ نے فجر کی اذان میں أصلوأة خير من النوم کا اضافہ فرمایا، آپ کے عہد میں با قاعدہ تراویح کا سلسلہ شروع ہوا، شراب نوشی کی سزا مقرر ہوئی اور آپ نے سنہ ہجری کا آغاز کروایا، موذنوں کی تنخواہ مقرر کی اور تمام مسجدوں میں روشنی کا بندوبست فرمایا - دنیاوی فیصلوں میں آپ نے ایک مکمل عدالتی نظام تشکیل دیا اور جیل کا تصّور دیا، آبپاشی کا نظام بنایا، فوجی چھاؤنیاں بنوائیں اور فوج کا با قاعدہ محکمہ قائم کیا- آپ نےدنیا بھر میں پہلی مرتبہ دودھ پیتے بچوں، بیواؤں اور معذوروں کے لئے وظایف مقرر کیۓ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے دسترخوان پر کبھی دو سالن نہیں ہوتے تھے، سفر کے دوران نیند کے وقت زمین پر اینٹ کا تکیہ بنا کر سو جایا کرتے تھے، آپ کے کرتے پر کئی پیوند رہا کرتے تھے، آپ موٹا کھردرا کپڑا پہنا کرتے تھے اور آپ کو باریک ملایم کپڑے سے نفرت تھی - آپ جب بھی کسی کو گورنر مقرر فرماتے تو تاکید کرتے تھے کہ کبھی ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھنا، باریک کپڑا نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی پر دروازہ بند نہ کرنا - آپ فرماتے تھے کہ عادل حکمران بے خوف ہو کر سوتا ہے - آپ کی سرکاری مہر پر لکھا تھا 'عمر - نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے'

آپ فرماتے 'ظالم کو معاف کرنا مظلوم پر ظلم کرنے کے برابر ہے'، اور آپ کا یہ فقرہ آج دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے چارٹر کا درجہ رکھتا ہے کہ ' مائیں اپنے بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں، تم نے کب سے انھیں غلام بنا لیا؟ ' آپ کے عدل کی وجہ سے رسول الله صل اللہ علیھ وسلّم نے آپ کو 'فاروق' کا لقب دیا اور آج دنیا میں عدل فاروقی ایک مثال بن گیا ہے - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ شہادت کے وقت مقروض تھے چنانچہ وصیّت کے مطابق آپ کا مکان بیچ کر آپ کا قرض ادا کیا گیا

اگر آج دنیا بھر کے مورخین الکزنڈر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کا موازنہ کرتے ہیں تو انھیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی پہاڑ جیسی شخصیت کے سامنے الکزنڈر ایک کنکر سے زیادہ نہیں معلوم ہوتا کیونکہ الکزنڈر کی بنائی سلطنت اسکے مرنے کے پانچ سال بعد ہی ختم ہو گئی تھی جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے جس جس خطّے میں اسلام کا جھنڈا لگایا وہاں آج بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا سنایی دیتی ہے - الکزنڈر کا نام آج صرف کتابوں میں ملتا ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے دئیے ہوے نظام آج بھی کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ٢٤٥ ملکوں میں رائج ہیں - آج بھی جب کبھی کوئی خط کسی ڈاک خانے سے نکلتا ہے، یا کوئی سپاہی وردی پہنتا ہے، یا وہ چھٹی پر جاتا ہے، یا پھر کوئی معذور یا بیوہ حکومت سے وظیفہ پاتے ہیں تو بلا شبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی عظمت تسلیم کرنی پڑتی ہے.

تقسیم ہند کے دوران لاہور کے مسلمانوں نے ایک مرتبہ انگریزوں کو دھمکی دی کہ 'اگر ہم گھروں سے نکل پڑے تو تمہیں چنگیز خان یاد آ جاۓ گا' .. اس پر جواھر لال نہرو نے کہا کہ 'افسوس یہ مسلمان بھول گئے کہ ان کی تاریخ میں کوئی عمر فاروق (رضی اللہ عنھ) بھی تھا'...
اور واقعی آج ہم یہ بھولے ہوے ہیں کہ رسول الله صل اللہ علیھ وسلّم نے فرمایا تھا کہ "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمربن خطاب ہی ہوتا.
آج اکیسویں صدی میں دنیا کے مورخین کے سامنے یہ سوال رکھا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے ہوتے ہوے کیا واقعی الکزنڈر فاتح اعظم کے لقب کا حقدار ہے ؟ سوچئے، الکزنڈر جب بادشاہ بنا تو اسے بہترین ماہروں نے گھڑ سواری اور تیراندازی سکھائی، اسے ارسطو جیسے استادوں کی صحبت ملی اور جب ٢٠ سال کا ہوا تو تخت و تاج پیش کر دیا گیا - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی سات پشتون میں کوئی بادشاہ نہیں گزرا تھا اور وہ اونٹ چراتے چراتے جوان ہوئے تھے- آپ نے نیزہ بازی اور تلوار چلانے کا ہنر بھی کسی استاد سے نہیں سیکھا تھا - الکزنڈر نے ایک منظم فوج کے ساتھ دس برسوں میں ١٧ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا، جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے بغیر کسی بڑی منظم فوج کے دس برسوں میں ٢٢ لاکھ مربع میل کا علاقہ زیرنگوں کیا جس میں روم اور ایران کی دو عظیم مملکت بھی شامل ہیں
یہ تمام علاقہ جو گھوڑوں کی پیٹھ پر سوار ہو کر فتح ہوا اس کا انتظام و انصرام بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے بہترین انداز میں چلایا- الکزنڈر نے جنگوں کے دوران بے شمار جرنیلوں کا قتل بھی کرایا اور اس کے خلاف بغاوتیں بھی ہوئیں- ہندوستان میں اسکی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار بھی کیا لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے کسی ساتھی کو انکے کسی حکم کی سرتابی کی جرات نہ تھی وہ ایسے جرنیل تھے کہ عین میدان جنگ میں حضرت خالد بن ولید جیسے سپہ سالار کو معزول کیا، حضرت سعد بن ابی وقاص کو کوفے کی گورنری سے ہٹایا، حضرت حارث بن کعب سے گورنری واپس لی، حضرت عمرو بن العاص کا مال ضبط کرنے کا حکم دیا اور حرص کے علاقے کے ایک اور گورنر کو واپس بلا کر سزا کے طور اونٹ چرانے پر لگا دیا- آپ کے ان تمام سخت فیصلوں کے خلاف کسی کو حکم عدولی کی جرات نہ ہوئی سب کو معلوم تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ فیصلہ صرف عدل کی بنیاد پر کرتے ہیں اور عدل کے خلاف وہ کچہ برداشت نہیں فرماتے
الکزنڈر نے ١٧ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا لیکن دنیا کو کوئی نظام نہ دے سکا - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے دنیا کو ایسے ایسے نظام دیے جو آج تک تک کسی نہ کسی شکل میں پوری دنیا میں رائج ہیں - دینی فیصلوں میں آپ نے فجر کی اذان میں أصلوأة خير من النوم کا اضافہ فرمایا، آپ کے عہد میں با قاعدہ تراویح کا سلسلہ شروع ہوا، شراب نوشی کی سزا مقرر ہوئی اور آپ نے سنہ ہجری کا آغاز کروایا، موذنوں کی تنخواہ مقرر کی اور تمام مسجدوں میں روشنی کا بندوبست فرمایا - دنیاوی فیصلوں میں آپ نے ایک مکمل عدالتی نظام تشکیل دیا اور جیل کا تصّور دیا، آبپاشی کا نظام بنایا، فوجی چھاؤنیاں بنوائیں اور فوج کا با قاعدہ محکمہ قائم کیا- آپ نےدنیا بھر میں پہلی مرتبہ دودھ پیتے بچوں، بیواؤں اور معذوروں کے لئے وظایف مقرر کیۓ
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے دسترخوان پر کبھی دو سالن نہیں ہوتے تھے، سفر کے دوران نیند کے وقت زمین پر اینٹ کا تکیہ بنا کر سو جایا کرتے تھے، آپ کے کرتے پر کئی پیوند رہا کرتے تھے، آپ موٹا کھردرا کپڑا پہنا کرتے تھے اور آپ کو باریک ملایم کپڑے سے نفرت تھی - آپ جب بھی کسی کو گورنر مقرر فرماتے تو تاکید کرتے تھے کہ کبھی ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھنا، باریک کپڑا نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی پر دروازہ بند نہ کرنا - آپ فرماتے تھے کہ عادل حکمران بے خوف ہو کر سوتا ہے - آپ کی سرکاری مہر پر لکھا تھا 'عمر - نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے'
آپ فرماتے 'ظالم کو معاف کرنا مظلوم پر ظلم کرنے کے برابر ہے'، اور آپ کا یہ فقرہ آج دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے چارٹر کا درجہ رکھتا ہے کہ ' مائیں اپنے بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں، تم نے کب سے انھیں غلام بنا لیا؟ ' آپ کے عدل کی وجہ سے رسول الله صل اللہ علیھ وسلّم نے آپ کو 'فاروق' کا لقب دیا اور آج دنیا میں عدل فاروقی ایک مثال بن گیا ہے - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ شہادت کے وقت مقروض تھے چنانچہ وصیّت کے مطابق آپ کا مکان بیچ کر آپ کا قرض ادا کیا گیا
اگر آج دنیا بھر کے مورخین الکزنڈر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کا موازنہ کرتے ہیں تو انھیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی پہاڑ جیسی شخصیت کے سامنے الکزنڈر ایک کنکر سے زیادہ نہیں معلوم ہوتا کیونکہ الکزنڈر کی بنائی سلطنت اسکے مرنے کے پانچ سال بعد ہی ختم ہو گئی تھی جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے جس جس خطّے میں اسلام کا جھنڈا لگایا وہاں آج بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا سنایی دیتی ہے - الکزنڈر کا نام آج صرف کتابوں میں ملتا ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے دئیے ہوے نظام آج بھی کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ٢٤٥ ملکوں میں رائج ہیں - آج بھی جب کبھی کوئی خط کسی ڈاک خانے سے نکلتا ہے، یا کوئی سپاہی وردی پہنتا ہے، یا وہ چھٹی پر جاتا ہے، یا پھر کوئی معذور یا بیوہ حکومت سے وظیفہ پاتے ہیں تو بلا شبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی عظمت تسلیم کرنی پڑتی ہے.
تقسیم ہند کے دوران لاہور کے مسلمانوں نے ایک مرتبہ انگریزوں کو دھمکی دی کہ 'اگر ہم گھروں سے نکل پڑے تو تمہیں چنگیز خان یاد آ جاۓ گا' .. اس پر جواھر لال نہرو نے کہا کہ 'افسوس یہ مسلمان بھول گئے کہ ان کی تاریخ میں کوئی عمر فاروق (رضی اللہ عنھ) بھی تھا'...
اور واقعی آج ہم یہ بھولے ہوے ہیں کہ رسول الله صل اللہ علیھ وسلّم نے فرمایا تھا کہ "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمربن خطاب ہی ہوتا.

Thursday, November 8, 2012

آنسوﺅں میں ڈوبتا امریکہ



آنسوﺅں میں ڈوبتا امریکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہتے طالبان نے فرعون امریکہ کو کس حال پر پہنچا دیا؟
تازہ ترین حالات کا تجزیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی عمران شاہین کے قلم سے
افغانستان کا صوبہ قندھار.... اس کی شہرت یہ ہے کہ اس پر جو قابض ہوتا ہے، وہی ملک پر حکومت کرتا ہے۔ آج کل اس قندھار پر عملاً تو طالبان کی ہی حکومت ہے لیکن یہاں ایک امریکی کیمپ بھی موجود ہے۔ آج 19 اکتوبر ہے اور امریکی فوج کے کیمپ ناتھن میں آہ و بکا ہو رہ
ی ہے۔ ا مریکی فوجی ایک دوسرے کے گلے لگ لگ کر رو رہے ہیں.... ان کے سامنے 2 فوجی بوٹ پڑے ہیں جن کے اوپر ایک جدید ترین بندوق الٹی کھڑی ہے۔ اس بندوق کے اوپر فوجی ہیلمٹ رکھا ہوا ہے۔ بوٹوں کے اردگرد فوجی تمغے اور اعزازات پڑے ہوئے ہیں اور رونے والے فوجی اس کے گرد گھیرا ڈال کر بلک بلک کر آنسو بہا رہے ہیں اور کیوں....؟ اس لئے کہ ایک روز پہلے یہیں ان کا ایک اہم ساتھی برٹنی گورڈن طالبان کے حملے میں مارا گیا تھا، یوں اب اس کی باقیات رکھ کر ماتم جاری ہے لیکن امریکیوں کے دل کو سکون نہیں آ رہا ۔ 
یہ اسی دن کا ایک اور لیکن امریکہ کے اندر کا منظر ہے۔ ریاست لاس اینجلس کے فوجی مرکز میں فوج کی 225 ویں ملٹی رول برج کمپنی کے 200 ماہر سپاہیوں کو افغانستان روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں سے نکلنے والی اپنی فوج کے لئے راہ ہموار کر سکیں اور وہاں افغان فوج کو انتظامات سنبھالنے کیلئے تیار کر سکیں۔ یہاں یہ فوجی بھی جمع ہیں اور ان کے اہل خانہ اور بچے بھی موجود ہیں۔ یہاں بھی منظر عجیب ہے، ہر بچہ اپنے فوجی باپ کو اور ہر عورت اپنے خاوند، بھائی یا بیٹے کو گلے لگا لگا کر اور چمٹ چمٹ کر رو رہی ہے کہ پتہ نہیں، یہ واپس بھی آئیں گے کہ نہیں۔ آہوں اور سسکیوں سے سارا ہال گونج رہا ہے لیکن کوئی کسی کو دلاسہ دینے والا نہیں سبھی رونے والے ہیں۔
ایسے مناظر آج کل امریکہ میں عام ہیں، جو فوجی واپس آ رہے ہیں، ان کے لواحقین انہیں زندہ سلامت پا کر روتے ہیں کہ چلو آیا تو سہی.... اگرچہ وہ اب پاگل ہے.... نفسیاتی مریض ہے، ہاتھ، پاﺅں یا ٹانگ سے محروم ہے یا اس کا چہرہ جل گیا ہے۔ 
یہی حال امریکہ کے صدر کا ہے جس کے بارے میں دنیا کہتی ہے کہ یہ دنیا کا طاقتور ترین انسان ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں وہ ایٹمی بٹن ہوتا ہے کہ جس کو اگر دبا دیا جائے تو ساری روئے زمین ایک بار نہیںبلکہ 6 بار جل کر مکمل خاکستر ہو جائے.... لیکن اس صدر کو اب یہ بٹن دبانے کی جرا¿ت و ہمت نہیں بلکہ اس کی طرف توجہ کی بجائے اب تو اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا؟وہ کبھی افغانستان سے بھری لاشوں سے ا ٓنے والے جہازوں کو دیکھ کر ایئر پورٹ پر روتاہے کبھی فوجیوں کی قبروں پر اور کبھی ماتمی مجلسوں میں.... امریکہ کی تاریخ میں اتنے آنسو شاید پہلے کسی صدر کے نہیں بہائے ہوں گے۔ 
ہر امریکی آج یہی سوچتا نظر آتا ہے کہ افغانستان کے 11 سال نے ہمارا حال کیا سے کیا کر دیا ہے؟ جی ہاں! یہ وہی امریکہ ہے کہ جو کل تک ”خدائی“ کا دعویدار تھا لیکن دشمن کے ہاتھوں مرنے پر نہ رونے والے افغانیوں نے ننگے پاﺅں اور ننگے جسم سے وہ حشر کردیا کہ غرور و تکبر کے سارے لبادے ہی اتر گئے۔ میرے سامنے اس وقت امریکی صحافی گیرتھ پورٹر کی چند روز پہلے کی ایک رپورٹ پڑی ہے جس کا عنوان ہے :
How the US Quietly Lost the IED War in Afghanistan
”امریکہ افغانستان میں دیسی ساختہ بموں کی جنگ کیسے مکمل طور پر ہار گیا“۔ 
صحافی لکھتا ہے کہ افغانستان میں سال 2012ءکی شہرت تو اس بات سے تھی کہ افغان فوج نے اندرونی جنگ میں اتحادیوں کو بے تحاشہ مارا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکہ دیسی ساختہ بموں یعنی IED Improvised Explosive Devices کی جنگ طالبان سے ہار گیا ہے۔ اگرچہ دعوے تو کئے جا رہے ہیں کہ دیسی ساختہ بموں کے دھماکے اور کارروائیاں کم ہو گئی ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں ہے، 2009ءسے 2011ءکے عرصے میں ایسے بموں سے امریکی اعتراف کے مطابق امریکی و اتحادی افواج پر 14627 حملے ہوئے۔2011ءمیں ان کی شرح میں اضافہ ہوا تھا۔امریکہ نے ان حملوں کو روکنے کیلئے{Jieddo} IED Defeat Joint Organization کے نام سے ادارہ بنایا۔ اس ادارے نے 18ارب ڈالر خرچ کر کے اعلیٰ اور حساس ترین آلات جن میں روبوٹ اور حساس کیمرے تک شامل تھے، تیار کئے لیکن مقابلے میں طالبان نے انتہائی سادہ طریقے سے بنائے جانے والے بموں اور دھماکوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھا دی، دھماکے بڑھے تو امریکی جرنیلوں ڈیوڈ پیٹریاس اور جنرل میکرسٹل نے حکمت عملی تشکیل دی کہ ”ہم گاڑیوں سے باہر نہیں نکلتے، عام لوگوں سے نہیں ملتے تو حملے لازماً بڑھیں گے۔ ہمیں فولادی قلعہ نما جنگی گاڑیوں سے نکل کر عوام میں جانا اور باہمی اعتماد پیدا کرنا ہو گا تاکہ وہ ہمیں اطلاعات دیں اور ہم ان بموں سے بچ جائیں“ لیکن اس حکمت عملی کا انجام اور بھی خطرناک نکلا کیونکہ گاڑیوں میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد نسبتاً کم تھی لیکن جب انہوں نے باہر نکلنا شروع کیا تو اموات اور تباہی کہیں بڑھ گئی، حالت یہاں تک پہنچی کہ امریکی فوج کی ٹاسک فورس نے جون 2011ءمیں جنگ میں لگنے والے فوجیوں کے نئے قسم کے زخموں کو Dismount Complete Blast injury کا نام دے دیا جس میں ذہنی دباﺅ اور نقصان کے ساتھ ٹانگوں کے علاوہ نازک اعضا بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ جنوری 2011ءمیں JIEDDO کے سربراہ جنرل اوٹس نے واشنگٹن پوسٹ کو دیئے انٹرویو میں کھلا اعتراف کیا کہ We are Losing the IED fight in Afghanistan”ہم افغانستان دیسی بموں کی جنگ ہار رہے ہیں“۔ 
یوں اس تناظر میں دیکھیں تو منظر نامہ عجیب نظر آتا ہے کہ ایک طرف اندھی دولت، ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی کا اوج کمال، طاقت بے حساب اور دوسری طرف خالی ہاتھ یا زیادہ سے زیادہ ریت، پتھر اور کنکر پھر یہ کیا ہوا کہ امریکی رو پڑے.... جو کہتے تھے ہم اس قدر معزز و محترم ہیں کہ ہمارے کتوں کو بھی دنیا میں کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ آج انہی امریکیوں کی آنکھیں خون کے آنسو رو رہی ہیں، سب کچھ نامراد ٹھہراہے۔ کہانی نکھر کر سامنے آ رہی ہے.... وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ جو ہم کل کہتے تھے لوگ ماننے سے انکاری تھے۔ آج ماننے پر مجبور ہیں تو پھر مان لو.... امریکہ برباد.... جہاد کامیاب.... یہی اللہ نے لکھا تھا اور یہی آج کا فیصلہ ہے۔
یہ اسی دن کا ایک اور لیکن امریکہ کے اندر کا منظر ہے۔ ریاست لاس اینجلس کے فوجی مرکز میں فوج کی 225 ویں ملٹی رول برج کمپنی کے 200 ماہر سپاہیوں کو افغانستان روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں سے نکلنے والی اپنی فوج کے لئے راہ ہموار کر سکیں اور وہاں افغان فوج کو انتظامات سنبھالنے کیلئے تیار کر سکیں۔ یہاں یہ فوجی بھی جمع ہیں اور ان کے اہل خانہ اور بچے بھی موجود ہیں۔ یہاں بھی منظر عجیب ہے، ہر بچہ اپنے فوجی باپ کو اور ہر عورت اپنے خاوند، بھائی یا بیٹے کو گلے لگا لگا کر اور چمٹ چمٹ کر رو رہی ہے کہ پتہ نہیں، یہ واپس بھی آئیں گے کہ نہیں۔ آہوں اور سسکیوں سے سارا ہال گونج رہا ہے لیکن کوئی کسی کو دلاسہ دینے والا نہیں سبھی رونے والے ہیں۔
ایسے مناظر آج کل امریکہ میں عام ہیں، جو فوجی واپس آ رہے ہیں، ان کے لواحقین انہیں زندہ سلامت پا کر روتے ہیں کہ چلو آیا تو سہی.... اگرچہ وہ اب پاگل ہے.... نفسیاتی مریض ہے، ہاتھ، پاﺅں یا ٹانگ سے محروم ہے یا اس کا چہرہ جل گیا ہے۔ 
یہی حال امریکہ کے صدر کا ہے جس کے بارے میں دنیا کہتی ہے کہ یہ دنیا کا طاقتور ترین انسان ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں وہ ایٹمی بٹن ہوتا ہے کہ جس کو اگر دبا دیا جائے تو ساری روئے زمین ایک بار نہیںبلکہ 6 بار جل کر مکمل خاکستر ہو جائے.... لیکن اس صدر کو اب یہ بٹن دبانے کی جرا¿ت و ہمت نہیں بلکہ اس کی طرف توجہ کی بجائے اب تو اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا؟وہ کبھی افغانستان سے بھری لاشوں سے ا ٓنے والے جہازوں کو دیکھ کر ایئر پورٹ پر روتاہے کبھی فوجیوں کی قبروں پر اور کبھی ماتمی مجلسوں میں.... امریکہ کی تاریخ میں اتنے آنسو شاید پہلے کسی صدر کے نہیں بہائے ہوں گے۔ 
ہر امریکی آج یہی سوچتا نظر آتا ہے کہ افغانستان کے 11 سال نے ہمارا حال کیا سے کیا کر دیا ہے؟ جی ہاں! یہ وہی امریکہ ہے کہ جو کل تک ”خدائی“ کا دعویدار تھا لیکن دشمن کے ہاتھوں مرنے پر نہ رونے والے افغانیوں نے ننگے پاﺅں اور ننگے جسم سے وہ حشر کردیا کہ غرور و تکبر کے سارے لبادے ہی اتر گئے۔ میرے سامنے اس وقت امریکی صحافی گیرتھ پورٹر کی چند روز پہلے کی ایک رپورٹ پڑی ہے جس کا عنوان ہے :
How the US Quietly Lost the IED War in Afghanistan
”امریکہ افغانستان میں دیسی ساختہ بموں کی جنگ کیسے مکمل طور پر ہار گیا“۔ 
صحافی لکھتا ہے کہ افغانستان میں سال 2012ءکی شہرت تو اس بات سے تھی کہ افغان فوج نے اندرونی جنگ میں اتحادیوں کو بے تحاشہ مارا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکہ دیسی ساختہ بموں یعنی IED Improvised Explosive Devices کی جنگ طالبان سے ہار گیا ہے۔ اگرچہ دعوے تو کئے جا رہے ہیں کہ دیسی ساختہ بموں کے دھماکے اور کارروائیاں کم ہو گئی ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں ہے، 2009ءسے 2011ءکے عرصے میں ایسے بموں سے امریکی اعتراف کے مطابق امریکی و اتحادی افواج پر 14627 حملے ہوئے۔2011ءمیں ان کی شرح میں اضافہ ہوا تھا۔امریکہ نے ان حملوں کو روکنے کیلئے{Jieddo} IED Defeat Joint Organization کے نام سے ادارہ بنایا۔ اس ادارے نے 18ارب ڈالر خرچ کر کے اعلیٰ اور حساس ترین آلات جن میں روبوٹ اور حساس کیمرے تک شامل تھے، تیار کئے لیکن مقابلے میں طالبان نے انتہائی سادہ طریقے سے بنائے جانے والے بموں اور دھماکوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھا دی، دھماکے بڑھے تو امریکی جرنیلوں ڈیوڈ پیٹریاس اور جنرل میکرسٹل نے حکمت عملی تشکیل دی کہ ”ہم گاڑیوں سے باہر نہیں نکلتے، عام لوگوں سے نہیں ملتے تو حملے لازماً بڑھیں گے۔ ہمیں فولادی قلعہ نما جنگی گاڑیوں سے نکل کر عوام میں جانا اور باہمی اعتماد پیدا کرنا ہو گا تاکہ وہ ہمیں اطلاعات دیں اور ہم ان بموں سے بچ جائیں“ لیکن اس حکمت عملی کا انجام اور بھی خطرناک نکلا کیونکہ گاڑیوں میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد نسبتاً کم تھی لیکن جب انہوں نے باہر نکلنا شروع کیا تو اموات اور تباہی کہیں بڑھ گئی، حالت یہاں تک پہنچی کہ امریکی فوج کی ٹاسک فورس نے جون 2011ءمیں جنگ میں لگنے والے فوجیوں کے نئے قسم کے زخموں کو Dismount Complete Blast injury کا نام دے دیا جس میں ذہنی دباﺅ اور نقصان کے ساتھ ٹانگوں کے علاوہ نازک اعضا بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ جنوری 2011ءمیں JIEDDO کے سربراہ جنرل اوٹس نے واشنگٹن پوسٹ کو دیئے انٹرویو میں کھلا اعتراف کیا کہ We are Losing the IED fight in Afghanistan”ہم افغانستان دیسی بموں کی جنگ ہار رہے ہیں“۔ 
یوں اس تناظر میں دیکھیں تو منظر نامہ عجیب نظر آتا ہے کہ ایک طرف اندھی دولت، ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی کا اوج کمال، طاقت بے حساب اور دوسری طرف خالی ہاتھ یا زیادہ سے زیادہ ریت، پتھر اور کنکر پھر یہ کیا ہوا کہ امریکی رو پڑے.... جو کہتے تھے ہم اس قدر معزز و محترم ہیں کہ ہمارے کتوں کو بھی دنیا میں کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ آج انہی امریکیوں کی آنکھیں خون کے آنسو رو رہی ہیں، سب کچھ نامراد ٹھہراہے۔ کہانی نکھر کر سامنے آ رہی ہے.... وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ جو ہم کل کہتے تھے لوگ ماننے سے انکاری تھے۔ آج ماننے پر مجبور ہیں تو پھر مان لو.... امریکہ برباد.... جہاد کامیاب.... یہی اللہ نے لکھا تھا اور یہی آج کا فیصلہ ہے۔

یہ اسی دن کا ایک اور لیکن امریکہ کے اندر کا منظر ہے۔ ریاست لاس اینجلس کے فوجی مرکز میں فوج کی 225 ویں ملٹی رول برج کمپنی کے 200 ماہر سپاہیوں کو افغانستان روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں سے نکلنے والی اپنی فوج کے لئے راہ ہموار کر سکیں اور وہاں افغان فوج کو انتظامات سنبھالنے کیلئے تیار کر سکیں۔ یہاں یہ فوجی بھی جمع ہیں اور ان کے اہل خانہ اور بچے بھی موجود ہیں۔ یہاں بھی منظر عجیب ہے، ہر بچہ اپنے فوجی باپ کو اور ہر عورت اپنے خاوند، بھائی یا بیٹے کو گلے لگا لگا کر اور چمٹ چمٹ کر رو رہی ہے کہ پتہ نہیں، یہ واپس بھی آئیں گے کہ نہیں۔ آہوں اور سسکیوں سے سارا ہال گونج رہا ہے لیکن کوئی کسی کو دلاسہ دینے والا نہیں سبھی رونے والے ہیں۔
ایسے مناظر آج کل امریکہ میں عام ہیں، جو فوجی واپس آ رہے ہیں، ان کے لواحقین انہیں زندہ سلامت پا کر روتے ہیں کہ چلو آیا تو سہی.... اگرچہ وہ اب پاگل ہے.... نفسیاتی مریض ہے، ہاتھ، پاﺅں یا ٹانگ سے محروم ہے یا اس کا چہرہ جل گیا ہے۔ 
یہی حال امریکہ کے صدر کا ہے جس کے بارے میں دنیا کہتی ہے کہ یہ دنیا کا طاقتور ترین انسان ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں وہ ایٹمی بٹن ہوتا ہے کہ جس کو اگر دبا دیا جائے تو ساری روئے زمین ایک بار نہیںبلکہ 6 بار جل کر مکمل خاکستر ہو جائے.... لیکن اس صدر کو اب یہ بٹن دبانے کی جرا¿ت و ہمت نہیں بلکہ اس کی طرف توجہ کی بجائے اب تو اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا؟وہ کبھی افغانستان سے بھری لاشوں سے ا ٓنے والے جہازوں کو دیکھ کر ایئر پورٹ پر روتاہے کبھی فوجیوں کی قبروں پر اور کبھی ماتمی مجلسوں میں.... امریکہ کی تاریخ میں اتنے آنسو شاید پہلے کسی صدر کے نہیں بہائے ہوں گے۔ 
ہر امریکی آج یہی سوچتا نظر آتا ہے کہ افغانستان کے 11 سال نے ہمارا حال کیا سے کیا کر دیا ہے؟ جی ہاں! یہ وہی امریکہ ہے کہ جو کل تک ”خدائی“ کا دعویدار تھا لیکن دشمن کے ہاتھوں مرنے پر نہ رونے والے افغانیوں نے ننگے پاﺅں اور ننگے جسم سے وہ حشر کردیا کہ غرور و تکبر کے سارے لبادے ہی اتر گئے۔ میرے سامنے اس وقت امریکی صحافی گیرتھ پورٹر کی چند روز پہلے کی ایک رپورٹ پڑی ہے جس کا عنوان ہے :
How the US Quietly Lost the IED War in Afghanistan
”امریکہ افغانستان میں دیسی ساختہ بموں کی جنگ کیسے مکمل طور پر ہار گیا“۔ 
صحافی لکھتا ہے کہ افغانستان میں سال 2012ءکی شہرت تو اس بات سے تھی کہ افغان فوج نے اندرونی جنگ میں اتحادیوں کو بے تحاشہ مارا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکہ دیسی ساختہ بموں یعنی IED Improvised Explosive Devices کی جنگ طالبان سے ہار گیا ہے۔ اگرچہ دعوے تو کئے جا رہے ہیں کہ دیسی ساختہ بموں کے دھماکے اور کارروائیاں کم ہو گئی ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں ہے، 2009ءسے 2011ءکے عرصے میں ایسے بموں سے امریکی اعتراف کے مطابق امریکی و اتحادی افواج پر 14627 حملے ہوئے۔2011ءمیں ان کی شرح میں اضافہ ہوا تھا۔امریکہ نے ان حملوں کو روکنے کیلئے{Jieddo} IED Defeat Joint Organization کے نام سے ادارہ بنایا۔ اس ادارے نے 18ارب ڈالر خرچ کر کے اعلیٰ اور حساس ترین آلات جن میں روبوٹ اور حساس کیمرے تک شامل تھے، تیار کئے لیکن مقابلے میں طالبان نے انتہائی سادہ طریقے سے بنائے جانے والے بموں اور دھماکوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھا دی، دھماکے بڑھے تو امریکی جرنیلوں ڈیوڈ پیٹریاس اور جنرل میکرسٹل نے حکمت عملی تشکیل دی کہ ”ہم گاڑیوں سے باہر نہیں نکلتے، عام لوگوں سے نہیں ملتے تو حملے لازماً بڑھیں گے۔ ہمیں فولادی قلعہ نما جنگی گاڑیوں سے نکل کر عوام میں جانا اور باہمی اعتماد پیدا کرنا ہو گا تاکہ وہ ہمیں اطلاعات دیں اور ہم ان بموں سے بچ جائیں“ لیکن اس حکمت عملی کا انجام اور بھی خطرناک نکلا کیونکہ گاڑیوں میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد نسبتاً کم تھی لیکن جب انہوں نے باہر نکلنا شروع کیا تو اموات اور تباہی کہیں بڑھ گئی، حالت یہاں تک پہنچی کہ امریکی فوج کی ٹاسک فورس نے جون 2011ءمیں جنگ میں لگنے والے فوجیوں کے نئے قسم کے زخموں کو Dismount Complete Blast injury کا نام دے دیا جس میں ذہنی دباﺅ اور نقصان کے ساتھ ٹانگوں کے علاوہ نازک اعضا بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ جنوری 2011ءمیں JIEDDO کے سربراہ جنرل اوٹس نے واشنگٹن پوسٹ کو دیئے انٹرویو میں کھلا اعتراف کیا کہ We are Losing the IED fight in Afghanistan”ہم افغانستان دیسی بموں کی جنگ ہار رہے ہیں“۔ 
یوں اس تناظر میں دیکھیں تو منظر نامہ عجیب نظر آتا ہے کہ ایک طرف اندھی دولت، ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی کا اوج کمال، طاقت بے حساب اور دوسری طرف خالی ہاتھ یا زیادہ سے زیادہ ریت، پتھر اور کنکر پھر یہ کیا ہوا کہ امریکی رو پڑے.... جو کہتے تھے ہم اس قدر معزز و محترم ہیں کہ ہمارے کتوں کو بھی دنیا میں کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ آج انہی امریکیوں کی آنکھیں خون کے آنسو رو رہی ہیں، سب کچھ نامراد ٹھہراہے۔ کہانی نکھر کر سامنے آ رہی ہے.... وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ جو ہم کل کہتے تھے لوگ ماننے سے انکاری تھے۔ آج ماننے پر مجبور ہیں تو پھر مان لو.... امریکہ برباد.... جہاد کامیاب.... یہی اللہ نے لکھا تھا اور یہی آج کا فیصلہ ہے۔


 

Sunday, November 4, 2012

اسلامی مدرسوں کی شان سنو


uploading date October 28 ایک بار ضرور دیکھیں یہ ویڈیو YE HAINE HAMARYE MADRASEY اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اب ان مسلمانوں کو شرم آنی چاہیے جو مدرسوں کو دہشتگردی کی فیکٹریاں کہتے ہیں —