Wednesday, December 12, 2012

قبول اسلام



1977میں جناب گیری میلر (Gary Miller) جو ٹورنٹو یونیورسٹی میں ماہر علمِ ریاضی اور منطق کے لیکچرار ہیں ، اور کینڈا کے ایک سرگرم مبلغ ہیں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ عیسائیت کی عظیم خدمت کرنے کے لئے قرآن ِمجید کی سائنسی اور تاریخی غلطیوں کو دنیا کے سامنے لائیں گے ، جو اس کےمبلغ پیرو کاروں کی مدد کرے تاکہ مسلمانوں کو عیسایئت کی طرف لایا جا سکے ۔
تاہم نتیجہ اس کے بالکل برعکس تھا میلر کی دستاویز جائز تھیں 
اور تشریح اور ملاحظات مثبت تھے ۔ مسلمانوں سے بھی اچھے جو وہ قرآنِ مجید کے متعلق دے سکتے تھے ۔ اس نے قرآنِ مجید کو بالکل ایسا ہی لیا جیسا ہونا چاہیئے تھا ،اور ان کا نتیجہ یہ تھا کہ:
یہ قرآنِ مجید کسی انسان کا کام نہیں۔
پروفیسر گیری میلر کے لئے بڑا مسئلہ قرآنِ مجید کی بہت سی آیات کی بناوٹ تھی جو اسے چیلنج کر رہی تھیں للکار رہی تھیں مثلاً:
أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ اخْتِلاَفًا كَثِيرًا۔
بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے۔
سورۃ نمبر:4، النسآء، آیت نمبر82

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو۔
سورۃ نمبر:2 ،البقرۃ،آیت نمبر:23
اگرچہ پروفیسر میلر شروع شروع میں للکار رہا تھا اور چیلنج کر رہا تھا ،مگر بعد میں اس کا یہ رویہ حیرت انگیز طور پر تبدیل ہو گیا اور پھر اس نے بیان کیا کہ اس کو قرآن سے کیا ملا؟
مندرجہ ذیل کچھ نکات ہیں جو پروفیسر میلر کے لیکچر”حیرت انگیز قرآن“میں بیان کئے ہیں:
یہاں کوئی مصنف (لکھنے والا) ایسا نہیں ملے گا جو ایک کتاب لکھے اور پھر سب کو للکارے اور چیلنج کرے کہ یہ کتاب غلطیوں (اغلاط)سے پاک ہے۔قرآن کا معاملہ کچھ دوسرا ہے۔ یہ پڑھنے والے کو کہتا ہے کہ اس میں غلطیاں نہیں ہیں۔اور پھر تمام لوگوں کو چیلنج کرتا ہے کہ اگر تم کہتے ہو کہ اس میں غلطیاں ہیں اور تم اپنی اس بات پر سچے ہو تو ان غلطیاں تلاش کرکے دکھا دو۔یا تم سمجھتے ہو کہ یہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کا کلام ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر دکھا دو۔
قرآن مقدس ،نبی اکرمﷺ کی حیات مبارکہ(ذاتی زندگی) کے سخت لمحات کا ذکر نہیں کرتا جیسا کہ آپ ﷺ کی رفیق حیات اور محبوب بیوی حضرت خدیجہ ؓاور آپﷺ کے صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کی موت۔
نہایت ہی عجیب طرح سے اور عجیب طور پر وہ آیات مبارکہ جو کچھ ناکامیوں پر بطور رائے(تبصرہ) نازل کی گئیں وہ بھی کامیابی کا اعلان کرتی ہیں اور وہ آیات جو کامیابی ،فتح اور کامرانی کے وقت نازل ہوئیں ان میں بھی غرور و تکبر کے خلاف تنبیہ کی گئی ہیں۔
جب کوئی اپنی ذاتی زندگی (سوانح حیات/آپ بیتی) لکھتا ہے تو اپنی کامیابیوں (فتوحات) کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور اپنی ناکامیوں اور شکست کے متعلق دلائل دینے کی کوشش کرتا ہے ، جبکہ قرآن مجید نے اس کے برعکس کیا جو یکساں اور منطقی ہے۔ یہ ایک خاص اور مقررہ وقت کی تاریخ نہیں ہے، بلکہ ایک تحریر ہے جو اللہ(معبود) اور اللہ کے ماننے والوں ،عبادت کرنے والوں کے درمیان عام قسم کے قوانین اور تعلق کو پیدا کرتی ہے،وضع کرتی ہے۔
میلر نے ایک دوسری خاص آیت کے متعلق بھی بات کی :
کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو جنون نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں۔
سورۃ نمبر: 34 ،سبآ، آیت نمبر:46
اس نے ان تجربات کی طرف اشارہ کیا جو ایک محقیق “اجتماعی بحث و مباحثہ کے اثرات ” پر ٹورنٹو یونیورسٹی میں کر چکا تھا ۔
محقق نے مختلف مقررین (تقریر اور بحث کرنے والوں) کو مختلف بحث و مباحثہ میں اکھٹا کیا اور ان کے نتائج میں موازنہ کیا ، اس نے یہ دریافت کیا کہ بحث و مباحثہ کی زیادہ تر طاقت اور کامیابی تب ملی جب مقرر تعداد میں 2 تھے ،جبکہ طاقت اور کامیابی کم تھی جب مقررین کی تعداد کم تھی۔
قرآن مجید میں ایک سورۃ حضرت مریم علیہ السلام کے نام پر بھی ہے۔اس سورۃ میں جس طرح ان کی تعریف اور مدح کی گئی ہے اس طرح تو انجیل مقدس میں بھی نہیں کی گئی،بلکہ کوئی بھی سورۃ حضرت عائشہ ؓیا حضرت فاطمہ ؓکے نام سے موجود نہیں۔
حضرت عیسٰی علیہ السلام کا اسم کرامی قرآنِ مجید میں 25 مرتبہ ،جبکہ محمد ﷺ کا اسم مبارک صرف 5 مرتبہ دہرایا گیا ہے۔
کچھ تنقید کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں (نعوذ باللہ)کہ جو کچھ قرآن میں لکھا ہے وہ سب آسیب ، بھوت اور شیطان نبی اکرمﷺکو سکھاتے تھے، ہدایات دیاکرتے تھے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ قرآن مجید میں کچھ آیات ایسی بھی ہیں جیسے:
اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے۔
سورۃ نمبر:26، الشعرآء، آیت نمبر:210
مِ۔
اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو۔
سورۃ نمبر:16، النحل، آیت نمبر:98
اگر آپ ان حالات کا سامنا کرتے جب آپﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ غارِ حرا کے اندر ،مشرکوں کے درمیان گھرے ہوئے تھے اور وہ انہیں دیکھ سکتے تھے ،اگر وہ نیچے دیکھتے ،انسانی ردِ عمل یہ ہو گا کہ پیچے سے خروج کا راستہ تلاش کیا جائے یا باہر جانے کا کوئی دوسرا متبادل راستہ یا خاموش رہا جائے تاکہ کوئی ان کی آواز نہ سن سکے ، تاہم نبی اکرم ﷺ نے ابو بکر صدیق ؓسےفرمایا :
غمزدہ نہ ہو، فکر مت کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
"اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو اللہ اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو اللہ ہی کی بلند ہے۔ اور اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔"
سورۃ نمبر:9، التوبہ، آیت نمبر:40
یہ کسی دھوکہ باز یا دغا باز کی ذہنیت نہیں ایک نبی ﷺ کی سوچ ہے ۔جن کو پتہ ہے وہ جانتے ہیں کہ اللہ سبحان و تعالٰی ، ان کی حفاظت فرمائیں گے۔
میلر لکھتا ہے کہ کسی بھی مقدس کتاب نے اس قسم کا انداز نہیں اپنایا کہ جس میں پڑھنے والے کو ایک خبر دی جار رہی ہو اور پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ نئی خبر(اطلاع) ہے ۔ یہ ایک بے نظیر (بےمثال ) چیلنج (للکار) ہے ۔ کیا اگر مکہ کے لوگ مکر و فریب سے یہ کہہ دیتے کہ وہ تو یہ سب کچھ پہلے سے ہی جانتے تھے؟ کیا اگر کوئی اسکالر (عالم) یہ دریافت کرتا کہ یہ اطلاع(خبر) پہلے ہی سے جانی پہچانی تھی(افشا تھی) تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا۔
پروفیسر میلر کیتھولک انسائیکلو پیڈیا کے موجودہ عہد (زمانہ)کا ذکر کرتا ہے جو قرآن کے متعلق ہے۔ یہ واضع کرتا ہے کہ باوجود اتنے زیادہ مطالعہ ،نظریات اور قرآنی نزول کی صداقت پر حملوں کی کوشش اور بہت سے بہانے اور حجتیں جن کو منطقی طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ گرجا گھر (چرچ) کو اپنے آپ میں یہ ہمت نہیں ہوئی کہ ان نظریات کو اپنا سکے اور ابھی تک اس نے مسلمانوں کے نظریہ کی سچائی اور حقیقت کو تسلیم نہیں کیا کہ قرآن مجید میں کوئی شک نہیں اور یہ آخری آسمانی کتاب ہے۔
حقیقت میں پروفیسر میلر اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے اور اور صحیح راستہ چننے میں کافی حد تک صاف کو اور ایماندار تھا ۔اللہ اسے اور اس جیسے ان تمام لوگوں کو (جنہوں نے حق کو تلاش کیا اور اپنے تعصب کو اجازت نہیں دی کہ انہیں حق تک پہنچنے سے دور رکھے)مزید ہدایت نصیب فرمائے اور حق کی روشن شاہراہ پر چل کر اپنی عاقبت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
1977میں پروفیسر میلر نے مسلمان اسکالر جناب احمد دیداتؒ سے ایک بہت مشہور مکالمہ،بحث و مباحثہ کیا اس کی منطق صاف تھی اور اس کا عذر (تائید) ایسے دکھائی دیتی تھی کہ جیسے وہ سچائی تک بغیر کسی تعصب کے پہنچنا چاہتا تھا بہت سے لوگوں کی خواہش تھی کہ وہ اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جائے۔
1978 میں پروفیسر میلر نے اسلام قبول کرہی لیا اور اپنے آپ کو عبد الاحد کے نام سے پکارا ۔ اس نے کچھ عرصہ سعودی عرب تیل اور معدنیات کی یورنیورسٹی میں کام کیا اور اپنی زندگی کو دعویٰ بذریعہ ٹیلی ویژین اور لیکچرز کے لئے وقف کر دیا۔



Saturday, December 8, 2012

بنگلہ دیش سے باضابطہ معافی کا معاملہ



بنگلہ دیش سے باضابطہ معافی کا معاملہ
***********************************
بھارت نے مشرقی پاکستان توڑنے کی عملی منصوبہ بندی1971سے بھی بہت پہلے کی۔ سکھ جنرل کلدیپ سنگھ برار بھارتی فوج کی طرف سے مشرقی پاکستان میں لڑنے والا ایک اہم کمانڈر تھا۔ بعد میں 1984میں اس نے سکھوں کے مقدس مقام ”گولڈن ٹمپل“ پر حملہ کرکے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ سکھ اس وقت سے اسکی جا ن کے درپے ہیں۔ حال ہی جب وہ انگلینڈ گیا تو 

وہاں لندن میں30ستمبر کوخالصتانی سکھ نوجوانوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ موت سے تو بچ گیا لیکن سخت زخمی ہوا۔ اس واقعہ پر تمام اہم اخبارات میں بہت سے مضامین لکھے گئے اور جنرل برار کے انٹرویوز بھی شائع ہوئے۔
ایک ایسا ہی انٹرویو9نومبر2012 کو انٹرنیٹ پر پوسٹ ہوا۔(حوالہ rupeenews.com) اس انٹرویو کےمطابق: ”1971سے اب تک بھارت کی طرف سے کی جانیوالی کاروائیوں کے متعلق بہت سے اعترافات سامنے آئے ہیں۔ پہلا اعتراف تو جنرل مانک شاکی طرف سے ہوا کہ اس نے 1970میں اعلیٰ تربیت یافتہ ہندو فورس کے 80ہزار جوان مشرقی پاکستان میں داخل کئے جن کا مقصد افراتفری پھیلانا ۔تخریب کاری اور بنگالی خواتین کا ریپ کرنا تھا۔ یہ فورس عام بنگالی لباس میں بھیجی گئی۔ ان کارروائیوں کا الزام پاکستان فوج پر لگا کہ اسے بدنام کرنا۔ مشرقی پاکستان میں تباہی پھیلا کر عام بنگالیوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور انہیں پاکستان فوج کےخلاف متنفر کرنا تھا۔ کئی اور جرنیلوں نے بھی اسکی تصدیق کی ہے“ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ یہ فورس 1970میں الیکشن سے بھی پہلے بھیجی گئی۔
مکتی باہنی اور باغی فوجیوں کی فیملیزفروری ۔مارچ 1971 میں جب حالات خراب ہونے شروع ہوئے تو بھاگ کر بھارتی علاقے میں چلی گئیں ۔وہاں مہاجرین کیمپ قائم ہو گئے۔ فوجی ایکشن کے بعد ان کیمپوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔بھارت ان پناہ گزین کیمپوں کی تصاویر دکھا دکھا کر اور غیر ملکی وفود کو ان کیمپس کے دورے کرا کر پوری دنیا کو متاثر کرتا اور امداد بٹورتارہا۔ان فیملیز کو بھارت نے ایک طرح سے قیدی بنا لیا۔ اگر کوئی فیملی ان میں سے واپس آنا بھی چاہتی تو اسے بلیک میل کرکے روک لیا جاتاتاکہ انکے مرد مشرقی پاکستان میں تخریب کاری کےلئے استعمال ہوتے رہیں۔وہ دریاﺅں کے ذریعے مشرقی پاکستان میں داخل ہوتے ۔وہ وہاں افراتفری پھیلانے اورقتل و غارت میں مصروف رہتے۔ان کے پاس نقصان اٹھانے کےلئے کچھ نہ تھاکیونکہ ان کی فیمیلیز پہلے ہی بھارت میں پناہ لے چکی تھیں۔
پاکستانی فوج چونکہ علاقے اور زبان سے ناواقف تھی اس لئے ان حالات میں سراغ رسانی کا موئثر نظام بھی قائم نہیں ہو سکتا تھا اور مکتی باہنی والوں کا خوف اتنا تھا کہ کوئی بھی بنگالی یا بہاری انکی یا انکے گھروں کی نشاندہی کرنے کےلئے تیار نہ تھااس لئے ان کےخلاف کسی قسم کی کاررروائی ممکن نہ تھی۔اس کے برعکس بھارتی گوریلے اورر مکتی باہنی کے لوگ قتل و غارت کی کارروائیاں کرکے ادھر ہی روپوش ہو جاتے۔ ہمارے لئے انہیں تلاش کرنا ممکن ہی نہیں تھا نہ ہم ان کی کارروائےاں روک سکتے تھے۔یہ سب قتل و غارت بھی پاکستان آرمی کے ذمہ لگتی رہی۔اب یہاں اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا کہ شرپسند بنگالی اور ان کی فیملیز تو وہاں موجود ہی نہ تھیں تو پاکستان فوج کن لوگوں کو قتل اور کن خواتین کار یپ کرتی رہی۔ اس دور میں جو لوگ قتل ہوئے ان میں سے زیادہ تر لوگ پاکستان پسند بنگالی یابہاری تھے۔ فوج اتنی پاگل تو نہ تھی کہ اپنے لوگوں کو مارتی۔
فوجی کارروائی کے دوران مغربی پاکستان سے مزید فوج۔ٹیکنےکل لوگ ۔سول پولیس اور کچھ ریٹائرڈ ریزروسٹ (Reservist)وہاں بھیجے گئے ۔ہہ لوگ بالکل ہی علاقے سے، نئے ماحول سے اور سب سے بڑھ کر زبان سے ناواقف تھے۔پولیس والوں کو مکتی باہنی والوں نے چن چن کر مارنا شروع کیا بلکہ ان لوگوں کی حفاظت ایک مسئلہ بن گئی لہٰذا ان لوگوں کو مکتی باہنی کے حملوں سے بچانے کےلئے کچھ اہم علاقوں میں فوجی یونیفارم پہنانا پڑی اس لئے یہ لوگ بھی ہتھیار ڈالنے والوں میں فوجی شمار ہوئے۔مارچ میں جب فوجی کارروائی ہوئی تو اس وقت سے لےکر دسمبر تک پاکستانی فوج کی تعدادمع پولیس تقریباً45ہزار تک پہنچ سکی۔ان 45ہزار میں لڑاکا فوج محض25 سے 30ہزار تھی۔ان 25یا 30ہزار میں بھی ایک معقول تعداد ریٹائرڈ اور بوڑھے فوجیوں کی تھی جو وہاں بھیجے گئے تھے۔یہ تمام فوج مشرقی پاکستان کے ڈیڑھ لاکھ مربع میل کے رقبے میں پھیلی تھی جس کا کام محض نظم و نسق بحال کرنا تھانہ کہ قتل عام کرنا یا ریپ کرنا۔
حال ہی میں مشہور بھارتی صحافی سرمیلا بوس کی ایک تحقیقی کاوشDead Reckoning: Memories of the 1971 Bangladesh War کے نام سے سامنے آئی ہے۔ یہ خاتون آکسفورڈ یونیورسٹی کی سینئر ریسرچ سکالر ہے۔ 6سال کی جان لیوا تحقیق کے بعد یہ کتاب مکمل ہوئی اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس انگلینڈ سے شائع ہوئی۔ اس تحقیق میںجنوبی ایشیا کی اس جنگ کا مکمل احاطہ کیا گیاہے اور بھارتی الزامات کا بھانڈہ ان الفاظ میں پھوڑا ہے۔”جنگ کے شروع میں مشرقی پاکستان میں پاکستان فوج کی کل تعداد لگ بھگ بیس ہزار تھی۔ دسمبر تک یہ تعداد بڑھ کر34 ہزار ہوگئی۔ تقریباً 11ہزار سول پولیس اور رضاکار تھے۔ یہ لوگ وہاں گوریلا اور حقیقی جنگ کا مقابلہ کر رہے تھے ۔ ان حالات میں ان لوگوں کا لاکھوں کے حساب سے خواتین کی عصمت دری کرلینا ”سپر ہیومن“ کارنامہ ہوسکتا ہے حقیقت نہیں۔دوسرا بھارت جارح تھا جس نے ایک آزاد ملک میں80ہزار گوریلے اور بعد میں فوج بھیج کر اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی“
”را “کی زیر نگرانی بھارتی اور بنگلہ دیشی میڈیا نے ملکر ایسے ایسے جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کئے جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی مثلاًپاکستان آرمی پر بنگالی عورتوں۔ بچوں اور بوڑھوں تک کو قتل کے الزامات لگائے گئے جب کہ سرمیلا بوس کی 6سالہ ریسرچ کے مطابق پاکستان آرمی نے کہیں بھی کسی عورت۔ بچے یا بوڑھے پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ سنی سنائی باتیں تو بہت تھیں لیکن کسی نے بھی ایسے قتل کی گواہی نہ دی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاں کہیں ضرورت پڑی پاکستان آرمی نے ایسے لوگوں کی مدد کی ۔ (حوالہ صفحہ164)
اسی طرح9دسمبر1971 کی رات کو ڈھاکہ میں ایک یتیم خانہ پر بمباری کی گئی جس میں تین سو سے زیادہ معصوم بچے ہلاک ہوئے۔ یہ شرمناک ۔جھوٹا اور بیہودہ الزام بھی پاکستان ائیر فورس پر لگاجبکہ پاکستان ائیر فورس کے جہازتو6دسمبر کو ہی ڈھاکہ میں گراﺅنڈ کر دئیے گئے تھے۔ بعدمیں 12دسمبر کے "The Observer"نے یہ پول کھول دیا کہ یہ کارنامہ بھارتی پائلٹس کاتھا۔ 13دسمبر کو جب حالات خراب ہوئے تو غیر ملکیوں کو ڈھاکہ سے نکالا گیا۔ ان غیر ملکیوں نے بھی تصدیق کی کہ بھارتی جہازوں نے 5عدد پانچ سو سے ایک ہزار پونڈ کے وزنی بم برسا کر یہ یتیم خانہ تباہ کیاتھا۔
**********************
کالم نگار | سکندر خان بلوچ(ملتان)
*****************************


Respect – Dr. Farzana Suleman became first blind PhD women of Pakistan. She completed her double Masters and PhD in Philosophy and Islamic Study.


محمد بن قاسم سندھ فتح کرکے کہاں گیا؟


محمد بن قاسم سندھ فتح کرکے کہاں گیا؟
محمد بن قاسم کے حوالے سے ہماری درسی کتابیں ہمیں بار بار یہ تو بتاتی ہیں کہ اُس نے سترہ سال کی چھوٹی سی عمر میں فوجی جرنیل کا عہدہ سنبھال کر سندھ پر حملہ کیا اور بڑی مہارت سے دیبل سے لے کر ملتان تک کا علاقہ تھوڑے سے عرصے میں فتح کر لیا۔ تاہم یہ کتابیں اس حوالے سے مکمل طور پر خاموش ہیں کہ محمد بن قاسم سندھ فتح کرنے کے بعد کہاں گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے طلبا
ء/نوجوانوں کو بھی میں نے کبھی یہ سوال اٹھاتے نہیں سنا۔ حالانکہ فطری سی بات ہے کہ بندے کو یہ تجسس پیدا ہوتا ہے کہ آخر جس نوجوان نے سترہ سال کی عمر میں سندھ فتح کر لیا اُس نے باقی کی زندگی کیسے گزاری۔ کسی مشہور شخص کی پیدائش کا احوال معلوم نہ ہونا تو اتنی حیرت کی بات نہیں۔ لیکن اگر کسی شخص نے چھوٹی سی عمر میں اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہو تو اس کی موت کے حوالے سے کتابوں میں کوئی ذکر نہ ملنا یقیناً حیرت کی بات ہے۔
اسی تجسس نے لالاجی کو بے چین کر دیا اور لالا جی نے اس معاملے کو کریدنا شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں جو چند باتیں مختلف ذرائع سے سامنے آئیں وہ پیش خدمت ہیں:
پہلی بات تو یہ ہے کہ محمد بن قاسم سندھ کی فتح کے بعد کچھ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہا۔ سترہ سال کی عمر میں سندھ پر حملہ کرنے نکلا۔ اُس زمانے میں سفر کی مشکلات اور طوالت کو سامنے رکھئے، پھر دیبل (موجودہ کراچی کے آس پاس کوئی جگہ) سے لیکر ملتان تک کی فتوحات میں لگ بھگ تین سال لگ گئے۔ تقریباً سارے ہی مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ محمد بن قاسم کی وفات بیس (۲۰) سال کی عمر میں ہوئی۔
دوسری بات یہ ہے کہ محمد بن قاسم کی موت میدانِ جنگ میں لڑتے ہوئے نہیں ہوئی۔ نہ ہی کسی بیماری کی وجہ سے ہوئی۔ اگرچہ مورخٰین موت کے حوالے سے کوئی متفقہ فیصلہ نہیں دیتے تاہم اس بات پر سب متفق ہیں کہ محمد بن قاسم کی موت اپنے ہی حاکم کی طرف سے دی گئی سزا کے نتیجے میں واقع ہوئی۔
موت کیسے ہوئی ، حاکم کیوں ناراض ہوا، کیا سزا سنائی گئی…ان باتوں پر مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ محمد بن قاسم کی موت کے حوالے سے دو بیانات ملتے ہیں:
1) چھچھ نامہ سندھ کی تاریخ پر پہلی باقاعدہ کتاب سمجھی جاتی ہے۔ چھچھ نامہ میں محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے اور سندھ کے مختلف شہروں کے محاصرے، جنگوں اور فتوحات کی تفصیلات درج ہیں۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اس کتاب کے مطابق محمد بن قاسم نے راجہ داہر کی موت اور اس کی فوج کو شکست دینے کے بعد مسلمانوں کے دستور کے مطابق مالِ غینمت اور راجہ کی بیوی اور بیٹیوں کو اپنے حاکم حجاج بن یوسف کو بھجوا دیا۔ راجہ داہر کی بیٹیوں نے حجاج بن یوسف سے جھوٹ بولا کہ وہ خلیفہ کے لائق نہیں کیوں کہ محمد بن قاسم نے انہیں پہلے ہی استعمال کر لیا تھا۔ اس بات پر حجاج بہت ناراض ہوا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو بیل کی کھال میں بند کر کے واپس لے آؤ۔ اس کے حکم پر عمل کیا گیا تاہم بیل کی کھال میں دم گھُٹنے سے محمد بن قاسم کی راستے ہی میں موت واقع ہو گئی۔ بعد میں حجاج کو راجہ داہر کی بیٹیوں کا جھوٹ معلوم ہو گیا۔ انہوں نے محمد بن قاسم سے اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لئے یہ جھوٹ بولا تھا۔ حجاج نے ان لڑکیوں کو زندہ دیوار میں چنوا دیا۔
2) أحمد بن يحيى بن جابر البلاذري ایک مسلمان مورخ ہے جو خلیفہ المتوکل کے دربار تک رسائی رکھتا تھا۔ اس نے مسلمانوں کے ابتدائی دور کی تاریخ کو قلم بند کیا ہے۔ البلاذري نے ایک کتاب لکھی تھی فتوح البلدان کے نام سے جس کا انگریزی ترجمہ فلپ کے ہِٹی(Philip K Hitti) نے ‘The Origins of the Islamic State’کے نام سے کیا ہے۔ البلاذري کے مطابق714ء میں حجاج کی موت کے بعد اُس کے بھائی سلیمان بن عبدالمالک نے حکومت سنبھالی۔ وہ حجاج بن یوسف کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ اُس نے عنان حکومت سنبھالتے ہی حجاج کے منظورِنظر افراد کو قید کروا دیا۔ محمد بن قاسم بھی حجاج بن یوسف کے پسندیدہ افراد میں گنا جاتا تھا(یاد رہے کہ محمد بن قاسم حجاج بن یوسف کا داماد بھی تھا اور بعض مورخین کا خیال ہے کہ بھانجا بھی تھا)۔ چنانچہ محمد بن قاسم کو بھی قید کر دیا گیا۔ قید کے دوران میں ہونے والے تشدد کے نتیجے میں محمد بن قاسم کی موت واقع ہو گئی۔
محمد بن قاسم کی موت کے حوالے سے یہ باتیں قوم کے نونہالوں سے چھپا کر ہمارا محکمہ تعلیم کیا حاصل کرنا چاہتا ہے اس کا تو پتہ نہیں۔ تاہم اپنے ماضی کے ناپسندیدہ واقعات کو چھُپایا تو جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔ جو قوم اپنی تاریخ سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتی، وہ کبھی بھی پورے اعتماد سے دوسری قوموں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار نہیں کر سکتی۔
خود بھی پڑھیں اور دوستوں کو بھی شیئر کریں
مزید کے لیے ضرور وزٹ کریں
██▒░ Page for +ve Pakistan stuff-> Mai Pakistani Hoon ░▒▓██
██▒░ Like Page www.facebook.com/Mai.Pakistani.Hoon ░▒▓██

یۂ عبرت کی جاء هے تماشہ نہیں هے



یۂ عبرت کی جاء هے تماشہ نہیں هے
 
ﺍﯾﮏ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺳﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﻭﺍﻗﻊ ﮐﮭﻨﮉﺭ ﻧﻤﺎ ﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ 19ﻧﻮﻣﺒﺮ 2011ﮐﻮﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ً ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﯾﺎﭼﮭﮯ ﻣﺎﮦ ﺳﮯ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﻮ ﺍ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﺴﺘﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮞﻨﮧ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏﮐﮧ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺗﮫ ﺭﻭﻡ ﺗﮏ ﮐﯽ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺴﺮﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍُﺱ 
ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺳﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﺳﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺩﯾﻮﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﯽ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﭘﯿﺎﺳﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﯽ ﮨﻔﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮞﮩﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮞ ﭙﮍ ﺍ ﻣﯿﭩﺮﺱ ﺗﮑﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺒﻞ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﮔﻨﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺑﻮ ﺩﺍﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﻮ ﺭﮨﯽ ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﻦ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮔﻨﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺑﻮ ﺩﺍﺭ ﮐﻤﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﻡ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮩﯿﮞﺘﮭﺎﺑﻠﮑﮧ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮑﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﺑﺎﺍﺛﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔ﻭﮦ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺁﺳﺎﺋﺶ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﯿﺎﺷﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﮈﺍﻟﺮﺯ ﮐﭽﮫ ﺳﮑﯿﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺧﺮﭺ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻟﻨﺪ ﻥ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮨﯽ ﺍُﺳﮯ ﺷﻤﺎﻟﯽ ﻟﻨﺪ ﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭ ﺕ ﮔﮭﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﮔﮭﺮ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎ ﺭ ﻧﮩﯿﮞﺘﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺿﺪ ﻣﯿﮞﺂﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﮈﺑﻞ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮐﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﮭﮍﮮ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﻭﮌ ﺑﺮﭨﺶ ﭘﺎﺅﻧﮉﺯ ﮐﺎ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﺎ ﺟﺴﮑﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺍﯾﮏ ﺍﺭﺏ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﮐﺮﻭ ﮌ ﺭﻭﭘﮯ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ۔ 2009 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ 37ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﻣﻨﺎﺋﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻣﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺱ ﮐﮯ Albanian tycoon ،ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ Peter Munkﺍﻭﺭ prince of Monaco Albertﺟﯿﺴﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺷﺨﺼﯿﺎ ﺕ ﻧﮯ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﮩﻨﮕﯽﭘﯿﻨﭩﻨﮓ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﺎ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﮈﺍﻟﺮﺯ ﻣﺎﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﻨﭩﻨﮓ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺯﯾﻨﺖ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ۔ 2006ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺭﮐﺎﺭﮦ Orly weinerman ﺳﮯ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﻮﺑﮧ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺒﺎﺭ ﻟﮕﺎﺩﺋﯿﮯ ﭼﻨﺎﭼﮧ orly weinermaﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﻝ ﻓﺮﯾﻨﮉﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﺗﺮﯾﻦ ﮔﺮﻝ ﻓﺮﯾﻨﮉﺗﮭﯽ ۔ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺑﻖ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﭨﻮﻧﯽ ﺑﻠﯿﺮﮐﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﺴﭧ ﻓﺮﯾﻨﮉﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﻃﺎﻧﻮﯼ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﺳﮯ buckingham palace ﺍﻭﺭ winsley castleﻣﯿﮟ ﻟﻨﭻ ﺍﻭﺭ ﮈﻧﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﮧ ﻟﻨﺪﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﮯ ﺑﻮﺍﺋﮯ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﮯ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮍﺍ ﻓﺨﺮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎﺗﮭﺎﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﯽ shanzelize street ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺗﯿﺲ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﻓﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼ ﮐﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮﺩﯾﺎﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﯽ ﺳﭩﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭼﺎﻻﻥ ﺗﮏ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﯽ ۔ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ investment authorityﮐﺎ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﺗﮭﺎﺭﭨﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﺎﻭﺭ ﻓﻞ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ 10$ billionﺗﮏ ﮐﯽ ﺳﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ ۔ﺍﯾﺴﯽ ﺷﺎﻥ ﻭﺷﻮﮐﺖ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔُﺰﺍﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺷﺨﺺ ﺟﻮ 19ﻧﻮﻣﺒﺮ2011ﺀ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﺑﺪﺑﻮ ﺩﺍﺭﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﺑﻮ ﺩﺍﺭ ﮐﻤﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﺎ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼﻡ ﺗﮭﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﻧﻤﺒﺮ ﭘﺮ ﺗﯿﻞ ﺳﮯ ﻣﺎﻻﻣﺎﻝ ﻣﻠﮏ ﻟﯿﺒﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺑﻖ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﺮﻧﻞ ﻗﺰﺍﻓﯽ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﻗﺰﺍﻓﯽ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﺸﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﺒﯿﺎﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﻋﮩﺪﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺒﯿﺎ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﺎﺍﺛﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺎ ﺍﺛﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻭﺭ ﻓﻞ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺮﻧﻞ ﻗﺬﺍﻓﯽ ﮐﻮ ﻧﯿﻮﮐﻠﯿﺌﺮ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﺗﺮﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻧﮯ ﻗﺎﺋﻞ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼ ﻡ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻟﯿﺒﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﻗﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼﻡ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻗﺪﻡ ﻟﯿﺒﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮ ﺍ ﻟﻨﺪ ﻥ ﯾﺎ ﭘﯿﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﯽ ﺑﮍ ﯼ ﺑﮍﯼ ﮐﻤﭙﻨﯿﺎﮞ ﺧﺎﺹ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺧﺼﻮﺻﯽ ﭘﺮﻓﯿﻮﻣﺰ ﺗﯿﺎ ﺭ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮞﯿﮧ ﻭﮨﯽ ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼﻡ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﮏ ﻣﻠﮑﮧ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺷﺎﮨﯽ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺑﻨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮏ ﺍُﺳﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ﻭﮦ ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼﻡ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻟﻨﺪﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﺧﺼﻮﺻﯽ ﻟﻨﭻ ﺍﻭﺭ ﮈﻧﺮ ﺯ ﮐﺎﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﯿﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﺝ ﺍُﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﻭﮌ ﭘﺎﺅﻧﮉﺯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺝ ﺳﺮ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﺖ ﺗﮏ ﻣﯿﺴﺮ ﻧﮩﯿﮞﮩﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮐﻞ ﺗﮏ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﭘﺘﯽ ﻟﻮﮒ ﺑﯿﺴﭧ ﻓﺮﯾﻨﮉﺯ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﺝ ﻭﮨﯽ ﺑﮯ ﯾﺎﺭﻭ ﻣﺪﺩﮔﺎﺭ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺩﮨﺎﺋﯿﺎﮞ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼﻡ ﭘﻠﮏ ﺟﮭﭙﮑﺘﮯ ﮨﯽ ﻋﺮﺵ ﺳﮯ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﻓﻘﯿﺮ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﷲﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﻗﺎﮨﺮ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﭻ ﻧﮩﯿﮞﺴﮑﺘﺎ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺟﻮﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮞﺎﻭﺭﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻧﺸﮯ ﻣﯿﮞﺒﮩﮏ ﮐﺮ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻏﺮﻭﺏ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﮐﺎ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﭼﻤﮑﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼﻡﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﭼﯿﺦ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮐﮭﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮯ ﺣﺲ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﺪﺍﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﯾﺴﺎﮨﯽ ﺩﺭﺩﻧﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ


Dead Reckoning The memories of the1971 Bangladesh War (شرمیلا بوس۔ مصنفہ )


71
کی جنگ میں پاک فوج کے کردار پربھارتی مصنفہ شرمیلا بوس کی کتاب کو قوم پرست جذبات اور مشکل سوالوں کا سامنا کتاب کے مندرجات کو بنگلہ دیش ہی نہیں،  امریکہ اور خود پاکستان میں بھی صحافیوں، تاریخ دانوں اور قوم پرست جذبات کی کڑی آزمائش اور مشکل سوالوں کا سامنا ہےکیا یہ کتاب لکھنے کے لئے آپ نے کسی سے پیسے لئے ہیں ۔؟”
 
ایک تیکھا سوال ہال کی دائیں طرف سے اچھالا گیا تھا ۔سوال اٹھانے والے کے لہجے کی ت
پش اورچہرے کی ناگوار ی بتا رہی تھی کہ بنگلہ دیشی قوم پرستی کو آنچ دکھائی گئی ہے ۔
 
“نہیں ۔۔میں نے کتاب لکھنے کے لئے کسی سے پیسے نہیں لئے ۔” 
 
کمال اطمینان اور خندہ پیشانی سے دیا گیا جواب خود صاحب کتاب خاتون کی طرف سے آیا تھا۔
 
 
 
شرمیلا بوس۔ مصنفہ
 
 
 
 
واشنگٹن کے ووڈرو ولسن انٹرنیشنل سینٹر فار سکالرز میں ہونے والی یہ تقریب ڈیڑھ سال پہلے مارچ 2011 میں بھارتی صحافی اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے شعبہ سیاسیات اور بین االاقوامی تعلقات کی سینئیر ریسرچ ایسوسی ایٹ شرمیلا بوس کی کتاب کا تنقیدی تعارف پیش کرنے کے لئے منعقد کی گئی تھی ۔کتاب کا نام تھا Dead Reckoning The memories of the1971 Bangladesh War 
 
کتاب کے مندرجات کو بنگلہ دیش ہی نہیں ، امریکہ اورخود پاکستان میں بھی صحافیوں ،تاریخ دانوں اور قوم پرست جذبات کی کڑی آزمائش اور مشکل سوالوں کا سامنا ہے ۔ پاکستان میں جہاں اس کتاب کا اردو ترجمہ کیا جا رہا ہے ،اکثرلوگ اس کے مندرجات کو حق کی جیت قرار دے رہے ہیں ۔ لیکن ایسے لوگ بھی موجودہیں ، جنہیں کتاب کے مندرجات سے اتفاق نہیں ۔بنگلہ دیشی اخبارات میں گزشتہ ایک سال کے دوران تواتر سے شرمیلا بوس پر پاکستان سے مبینہ ہمدردی رکھنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
 
بھارتی بنگال کے سب سے بڑے شہر کلکتہ سے تعلق رکھنے والی شرمیلا بوس ہندوستان کی تحریک آزادی کے راہنما سبھاش چندر بوس کی پوتی ہیں ۔ ان کی کتاب 1971 میں مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدگی کے ان واقعات کی تحقیق پر مبنی ہے ۔ جس میں پاکستانی فوج کوجنگی جرائم اور بنگالی خواتین کی بے حرمتی کے ان گنت واقعات کے لئے مورد الزام ٹہرایا گیا تھا ۔کتاب میں سن 71 کے مشرقی پاکستان اور آج کے بنگلہ دیش میں پیش آنے والے واقعات کے بیانئے اور جنگ کے انسانی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔شرمیلا بو س کہتی ہیں کہ ان کی ریسرچ کا بڑا حصہ ، جس میں پاکستان اور بنگلہ دیش میں کیا جانے والا فیلڈ ورک شامل ہے جو2003 سے 2007 کے دوران انجام پایا ۔جبکہ کتاب کا کچھ کام برطانیہ اور امریکہ میں بھی کیا گیا۔
 
ذیل میں شرمیلا بوس سے کئے گئے ٹی وی انٹرویو کی تفصیلات درج کی جا رہی ہیں ۔جو انہوں نے وائس آف امریکہ اردو کی تابندہ نعیم کو دیا تھا۔ شرمیلا بوس کا وڈیو انٹرویو دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے ۔
 
سوال:اس کتاب پر ریسرچ کے لئے آپ نے کتنے لوگوں سے بات کی اور وہ کون لوگ تھے ؟شرمیلا بوس : بنگلہ دیش میں میں نے ایسے بہت سے افراد سے بات کی، جو 1971 کے واقعات میں کسی نہ کسی طرح شامل تھے ، یا ان کے عینی شاہد تھے،جن کے بارے میں میں تحقیق کر رہی تھی۔یہ انٹرویوز،جن کا ذکر میری کتاب میں ہے،بنگلہ دیش کے دیہاتوں ، شہروں اور کئی اضلاع میں جا کر کئے گئے۔جن واقعات کا میں نے جائزہ لیا، وہ دسمبر 1970 ، جنوری 1971 سے مارچ 1972 تک کے ہیں ۔اس لئے وہ سب لوگ جو وہاں خود موجود تھے ، یا ان کے عینی گواہ تھے ، ان سے میں نے بنگلہ دیش میں بات کی ۔ تو آپ خود سوچ سکتی ہیں کہ وہ لوگوں کی کتنی بڑی تعداد ہو گی ۔ پاکستان میں میں نے کوشش کی کہ میں ایسے افراد سے بات کروں ، جو1971میں مشرقی پاکستان میں تعینات مغربی پاکستان کے حاضر سروس جونئیر آرمی آفیسرز تھے ۔ جنہوں نے مشرقی پاکستان میں مارشل لا ڈیوٹی کی ۔ شرپسند عناصر کے خلاف کارروائیاں کیں ۔ میں کچھ سینئیر فوجی افسران سے بھی ملی ۔ خوش قسمتی سے میں نے جنرل نیازی کی موت سے پہلے ان سے بھی ملاقات کی ۔ میں نے صاحبزادہ یعقوب خان سے بھی ملاقات کی تھی ۔ لیکن زیادہ تر میں نے ان لوگوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ، جو اس وقت پاکستانی فوج میں کیپٹن، لیفٹننٹ یا میجر کے طور پر تعینات تھے ۔ یا کچھ رجمنٹس میں کمانڈنگ آفیسرز تھے ، اور اب تک حیات تھے ۔۔مجموعی طور پر میں نے تین درجن سے زائد پاکستانی آرمی آفیسرز سے بات کی اور بنگلہ دیش میں جن لوگوں سے میری بات ہوئی ، ان کی تعداد کی گنتی کرنا بھی مشکل ہے ۔ کیونکہ جب دیہی علاقوں میں آپ لوگوں کے انٹرویو کر رہے ہوتے ہیں ، تو اکثر سینکڑوں لوگ یونہی جمع ہو جاتے ہیں ۔ اور ایک سے بات کرو تو کئی اور لوگ بھی گفتگو میں حصہ لینے لگتے ہیں ،اپنے تجربات بتاتے ہیں ۔ اس لئے میں ٹھیک سے نہیں بتا سکتی کہ بنگلہ دیش میں میری دراصل کتنے لوگوں سے بات ہوئی۔
 
سوال : وہ کیا چیز تھی ، جس نے آپ کو تاریخ کے ایک ایسے واقعے کی تحقیق پر اکسایا، جو چالیس سال پہلے ہوا تھا ،جب آج کی نسل کے بیشتر افراد پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ۔کیوں آپ کو یہ خیال آیا کہ بنگلہ دیش کی کہانی کے مضمرات کو گہرائی میں جا کر دیکھنا ضروری ہے ۔۔؟
 
شرمیلا بوس : 1971 کی جنگ میرے ساتھ تب سے ہے ، جب میں ایک بچی تھی اور کلکتہ میں بڑی ہو رہی تھی (شرمیلا بوس 1971 میں بارہ سال کی تھیں )میری اپنی یادداشت میں اب تک وہ تکلیف دہ اور پیچیدہ واقعات موجود ہیں ، جو ہمارے بالکل نزدیکی شہر میں پیش آئے ۔ میرے خاندان کے کئی افراد مشرقی پاکستان سے آنے والے مہاجرین کے لئے امدادی سرگرمیوں میں شامل رہے تھے ۔ تو یہ واقعات میرے ساتھ ساتھ اس وقت سے تھے، جب سے میں نے بین الاقوامی سیاست میں دلچسپی لینی شروع کی ۔ مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ مجھے اس بارے میں کچھ لکھنا چاہئے ۔یہ اور بات کہ مجھے اس کا موقعہ اس واقعے کے تیس، پینتیس سال بعد جا کر ملا ۔
 
سوال :آپ کے خیال میں آج کے بنگلہ دیش اور پاکستان میں آپ کی کتاب کے مندرجات کا وزن کیسا تولا جائے گا؟ 
 
شرمیلا بوس : کتاب کے مندرجات بہت متوازن ہیں ،مگر بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں میں ایسے لوگ ہونگے، جنہیں اس کتاب پر یقین کرنے،اور انہیں سمجھنے میں دشواری پیش آئے گی ۔ایسا اس لئے ہے کہ 40برسوں کے دوران دونوں ملکوں اور بھارت میں بھی اپنے طور پر ایک قوم پرستی پر مبنی دیو مالا تشکیل پا چکی ہے ۔ اس جنگ کے بارے میں کوئی غیر جذباتی ، غیر جا نبدار اور منظم ریسرچ نہیں ہوئی ۔چونکہ ہم میں سے بیشتر لوگ ایسی کہانیاں سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں ، میں خود بھی اس کہانی کا وہی بیانیہ سن کر بڑی ہوئی، جس پر بھارت اور بنگلہ دیش کی چھاپ تھی ۔توجب میں نے یہ ریسرچ شروع کی، اس وقت میں خود بھی نہیں جانتی تھی کہ کیا نتائج سامنے آئیں گے ۔میرا خیال تھا کہ چونکہ71 کے واقعات مکمل طریقے تحریری شکل میں نہیں لائے گئے ، اس لئے میں ایسی تفصیلات معلوم کروں گی ، جو کہیں درج نہیں ہوئیں ۔یعنی اس واقعے کے دستاویزی حقائق کا بھی خود جائزہ لوں گی ۔لیکن جب میں نے تحقیق کے لئے لوگوں سے بات کرنی شروع کی ، تو جو حقائق میرے سامنے آئے وہ ان کہانیوں سے مختلف تھے ، جنہیں سن کر میں بڑی ہوئی تھی ۔ مجھے خود بھی ان پر یقین کرنے میں دشواری پیش آئی ۔ میں سمجھ سکتی ہوں کہ بنگلہ دیش ا ور پاکستان میں بھی لوگوں کو اس کتاب کو سمجھنے میں دشواری پیش آئے گی جو اپنے اپنے وطن کی قوم پرستی پر مبنی کہانیاں سن کر بڑے ہوئے ہیں ۔ایسا ہر جنگی تنازعے کے بعد ہوتا ہے ۔لیکن ہاں ،یہ ریسرچ پہلے سامنے آنی چاہئے تھی۔۔پھر بھی مجھے خوشی ہے کہ یہ کام مکمل ہوا سوال :پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصے کی علیحدگی میں آپ پاکستانی فوج کا کیا کردار دیکھتی ہیں اور بھارت کے کردار کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
 
شرمیلا بوس : یہ کتاب بھارت کے کردار کے بارے میں نہیں ہے ۔ اگرچہ بھارت کا اس واقعے میں بہت کردار رہا ۔لیکن میری کتاب ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اس تنازعے سے براہ راست متاثر ہوئے ۔پاکستانی فوج کا جہاں تک تعلق ہے، وہ اس سال کے دوران ریاست کی پالیسی کے اطلاق کا ذریعہ تھی ۔ گو کہ وہ ریاستی پالیسی کے اطلاق کا ذریعہ مارچ 1971 کے بعد بنی ۔۔جبکہ میری کتاب اس سے کچھ مہینے پہلے سے شروع ہوتی ہے ۔مگر (پاک) فوج نے کیا کیا۔۔یہ ایک پیچیدہ معاملہ رہے گا ۔فوج میں ایسے لوگ تھے ، جو شرپسندوں کے خلاف نہایت ہی مشکل حالات میں ہر ممکن طریقے سےکارروائیاں کر نے کی کوشش کر رہے تھے، اور جنگ کے ضابطہ اخلاق پر عمل کر رہے تھے ۔ ان میں کئی اچھے اور معتبر لوگ تھے ، جو شاید اپنے ملک کی پالیسی سے مکمل اتفاق نہ کرتے ہوں مگر وہ ، وہ کام کرنے کی کوشش کر رہے تھے ، جو انہیں کرنے وہاں بھیجا گیا تھا ۔ لیکن ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے جنگی جرائم کئے ۔ تو ا71 کے تنازعے میں کئی nuancesاور پیچیدگیاں موجود ہیں ، اس میں ملوث تمام اداروں ، فریقوں اور کرداروں کی طرف سے ۔میری کتاب کا سب سے بڑا کنٹری بیوشن یہ ہوگا کہ ان تمام پیچیدگیوں کے بارے میں بات چیت اور مکالمہ شروع کیا جائے ۔کیونکہ قوم پرست دیومالا ئی قصوں (nationalistic mythology (میں واقعات اور چیزوں کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے ، اور اس تنازعے کے دونوں سروں پر کھڑے فریقوں نے ایسا ہی کیا ۔مگر اس سے کسی کی مدد نہیں ہوتی۔
 
سوال: بنگلہ دیش کی پیدائش کی کہانی میں آپ ولن کے طور پر کس کو دیکھتی ہیں ؟
 
شرمیلا بوس :مجھے ڈر ہے کہ اس کہانی میں کوئی اچھا کردار نہیں ہے ۔اس تنازعے کے ہر سرے پر برے لوگ موجود تھے اور اچھے لوگ بھی تھے ، مگر مجموعی طور پر اس تنازعے میں کسی فریق کا کردار قابل تعریف نہیں تھا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے واقعات کے بارے میں کچھ مزید تفصیلات اس لنک پر جا کر پڑھی جا سکتی ہیں http://urdunama.org/forum/viewtopic.php?t=6791
 

سولہ آنے - شہاب نامہ سے اقتباس از قدرت اللہ شہاب


یک روز ایک بےحد مفلوک الحال بڑھیا آئی۔ رو رو کر بولی کہ میری چند بیگھہ زمین ہے جسے پٹواری نے اپنے کاغذات میں اس کے نام منتقل کرنا ھے لیکن وہ رشوت لئے بغیر یہ کام کرنے سے انکاری ھے ۔ رشوت دینے کی توفیق نہیں۔ تین چار برس سے وہ طرح طرح کے دفتروں میں دھکے کھا رہی ہے لیکن کہیں سنوائی نہیں ہوئی۔
 
اس کی درد ناک بپتا سُن کر میں نے اسے اپنی کار میں بٹھایا اور جھنگ شہر سے ساٹھ ستر میل دور اس کے گاؤن کے پٹواری کو جا پکڑا۔ ڈپٹی کمشنر کو اپنے گاؤں میں یوں اچانک دیکھ کر بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ پٹواری نے سب کے سامنے قسم کھائی کہ یہ بڑھیا بڑی شرانگیز عورت ہے اور زمین کے انتقال ک بارے میں جھوٹی شکائیتں کرنے کی عادی ہے۔ اپنی قسم کی عملی طور پر تصدیق کرنے کے لئے پٹواری اندر سے ایک جزدان اٹھا کر لایا اور اسے اپنے سر پر رکھ کر کہنے لگا، "حضور دیکھئے میں اس مقدس کتاب کو سر پر رکھ کر قسم کھاتا ہوں"۔ گاؤن کے ایک نوجوان نے مسکرا کر کہا۔ "جناب ذرا یہ بستہ کھول کر دیکھ لیں"۔
 
ہم نے بستہ کھولا، تو اس میں قرآن شریف کی جلد نہیں بلکہ پٹوار خانے کے رجسٹر بندھے ہوئے تھے۔میرے حک
م پر پٹواری بھاگ کر ایک اور رجسٹر لایا اور سر جھکا کر بڑھیا کی انتقال اراضی کا کام مکمل کر دیا۔
 
میں نے بڑھیا سے کہا۔"بی بی، لو تمہارا کام ہو گیا۔ اب خوش رہو"۔
 
بڑھیا کو میری بات کا یقین نہ آیا۔ اپنی تشفی کے لئے اس نے نمبر دار سے پوچھا "کیا سچ مچ میرا کام ہو گیا ہے؟"
 
نمبر دار نے اس بات کی تصدیق کی تو بڑھیا کی آنکھوں سے بے اختیار خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ اس کے دوپٹے کے ایک کونے میں کچھ ریزگاری بندھی ہوئی تھی۔ اس نے اسے کھول کر سولہ آنے گن کر اپنی مٹھی میں لئے اور اپنی دانست میں دوسروں کی نظر بچا کر چپکے سے میری جیب میں ڈال دیئے۔ اس ادائے معصومانہ اور محبوبانہ پر مجھے بھی بے اختیار رونا آ گیا۔ یہ دیکھ کر گاؤں کے کئی دوسرے بڑے بوڑھے بھی آبدیدہ ہو گئے۔
 
یہ سولہ آنے واحد "رشوت" ہے جو میں نے اپنی ساری ملازمت کے دوران قبول کی۔ اگر مجھے سونے کا ایک پورا پہاڑ بھی مل جاتا، تو میری نظر میں ان سولہ آنوں کے سامنے اس کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوتی۔ میں نے ان آنوں کو ابھی تک خرچ نہیں کیا۔ کیونکہ میرا گمان ہے کہ یہ ایک ایسا متبرک تحفہ ہے جس نے مجھے ہمیشہ کے لئے مالا مال کر دیا۔
 
سولہ آنے - شہاب نامہ سے اقتباس از قدرت اللہ شہاب