Friday, November 9, 2012
بیٹی
بیٹی
دور جہالت کے پروردہ ایک شخص نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا کے ساتھ نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کا عالم دیکھا تو حیرت زدہ رہ گيا ۔ آنکھوں سے آنسو نکل آئے سوچنے لگا کہ آہ کس بے دردی سے میں نے اپنی پارۂ جگر کو صرف دور جہالت کی عصبیت کی بنا پر زندہ در گور کر دیا تھا۔ اور پھر نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے استفسار پر اپنی داستان بیان کرنا شروع کردی ۔
__________________________
_____________
میری بیوی حاملہ تھی ، ان ہی دنوں میں ایک سفر پر مجبور ہوگیا عرصے بعد پلٹ کر آیا تو اپنے گھر میں ایک بچی کو کھیلتے دیکھا بیوی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو بیوی نے کہا یہ تمہاری بیٹی ہے اور پھر کسی نامعلوم خوف کے تحت، التجا آمیزلہجے میں کہا: ذرا دیکھو تو کس قدر پیاری بچی ہے اس کے وجود سے گھر میں کتنی رونق ہے، یہ اگر زندہ رہے گی تو تمہاری یادگار بن کر تمہارے خاندان اور قبیلے کا نام زندہ رکھے گی۔ میں نے گردن جھکا لی، بیوی کو کوئی جواب دیے بغیر لڑکی کو بغور دیکھتا رہا لڑکی کچھ دیر تو اجنبی نگاہوں سے مجھے تکتی رہی پھر نہ جانے کیا سوچ کر بھاگتی ہوئی آئی اور میرے سینے سے لپٹ گئی، میں نے بھی جذبات کی رو میں اس کوآغوش میں بھر لیا اور پیار کرنے لگا کچھ عرصہ یونہی گزر گیا لڑکی آہستہ آہستہ بڑی ہوتی رہی اور ہوشیار ہوئی سن بلوغ کےقریب پہنچ گئی اب ماں کو میری طرف سے بالکل اطمینان ہو چکا تھا میرا رویہ بھی بیٹی کے ساتھ محبت آمیز تھا ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا: ذرا اس کو بنا سنوار دو،میں قبیلے کی ایک شادی میں اسے لے جاؤں گا ماں بیچاری خوش ہو گئی اور جلدی سے سجا سنوار کر تیار کردیا۔ میں نے لڑکی کا ہاتھ پکڑ ا اور گھر سے روانہ ہوگيا۔ ایک غیر آباد بیابان میں پہنچ کر پہلے سے تیار شدہ ایک گڑھے کے قریب میں کھڑا ہوگیا لڑکی جو بڑی خوشی کے ساتھ اچھلتی کودتی چلی آرہی تھی میرے قریب آ کر رک گئی اور بڑی معصومیت سے سوال کیا: بابا یہ گڑھا کا ہے کے لیے ہے؟ میں نے سپاٹ لہجے میں اس سے کہا: اپنے خاندانی رسم و رواج کے مطابق میں تم کو اس میں دفن کردینا چاہتا ہوں تاکہ تمہاری پیدائش سے ہمارے خاندان اور قبیلے کو جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے اس سے نجات مل جائے۔ لڑکی کو صورت حال کا اندازہ ہوا تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گيا اور قبل اس کے اس کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار ہو، میں نے اس کو گڑھے میں دھکیل دیا ۔ لڑکی دیر تک روتی اور گڑ گڑاتی رہی لیکن مجھ پر اس کے نالہ و فریاد کا کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے گڑھے کو مٹی سے بھر دیا ، اگرچہ آخر وقت تک وہ ہاتھ اٹھائے مجھ سے زندگی کی التجا کر رہی تھی لیکن افسوس! میں نے اپنے دل کے ٹکڑے کو زندہ در گور کردیا لیکن اس کی آخری التجا اب بھی میرے کانوں میں لاوے ٹپکاتی رہتی ہے: " بابا تم نے مجھے تو دفن کردیا لیکن میری ماں کوحقیقت نہ بتانا کہہ دینا کہ میں بیٹی کو اپنے قبیلے والوں میں چھوڑ آیا ہوں"۔
__________________________ _____________
اپنے عرب صحابی سے ایک بیٹی کے زندہ درگور کر دیے جانے کی داستان سنی تو حضور صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوگیا ۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش میں جناب فاطمہ سلام اللّہ علیہا بیٹھی ہوئی تھیں ان کی آنکھوں میں بھی نمی نظر آئی نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور آپ صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے ہونٹوں پر یہ جملے جاری ہوگئے: بیٹی تو رحمت ہے اور پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: میں فاطمہ کو دیکھ کر اپنے مشام جان کو بہشت کی خوشبو سے معطر کرتا ہوں۔
__________________________ _____________
بار الٰہی میں تجھ سے موت کے وقت آرام و راحت اور قیامت کے حساب و کتاب کے وقت عفوو مغفرت کا طالب ہوں
میری بیوی حاملہ تھی ، ان ہی دنوں میں ایک سفر پر مجبور ہوگیا عرصے بعد پلٹ کر آیا تو اپنے گھر میں ایک بچی کو کھیلتے دیکھا بیوی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو بیوی نے کہا یہ تمہاری بیٹی ہے اور پھر کسی نامعلوم خوف کے تحت، التجا آمیزلہجے میں کہا: ذرا دیکھو تو کس قدر پیاری بچی ہے اس کے وجود سے گھر میں کتنی رونق ہے، یہ اگر زندہ رہے گی تو تمہاری یادگار بن کر تمہارے خاندان اور قبیلے کا نام زندہ رکھے گی۔ میں نے گردن جھکا لی، بیوی کو کوئی جواب دیے بغیر لڑکی کو بغور دیکھتا رہا لڑکی کچھ دیر تو اجنبی نگاہوں سے مجھے تکتی رہی پھر نہ جانے کیا سوچ کر بھاگتی ہوئی آئی اور میرے سینے سے لپٹ گئی، میں نے بھی جذبات کی رو میں اس کوآغوش میں بھر لیا اور پیار کرنے لگا کچھ عرصہ یونہی گزر گیا لڑکی آہستہ آہستہ بڑی ہوتی رہی اور ہوشیار ہوئی سن بلوغ کےقریب پہنچ گئی اب ماں کو میری طرف سے بالکل اطمینان ہو چکا تھا میرا رویہ بھی بیٹی کے ساتھ محبت آمیز تھا ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا: ذرا اس کو بنا سنوار دو،میں قبیلے کی ایک شادی میں اسے لے جاؤں گا ماں بیچاری خوش ہو گئی اور جلدی سے سجا سنوار کر تیار کردیا۔ میں نے لڑکی کا ہاتھ پکڑ ا اور گھر سے روانہ ہوگيا۔ ایک غیر آباد بیابان میں پہنچ کر پہلے سے تیار شدہ ایک گڑھے کے قریب میں کھڑا ہوگیا لڑکی جو بڑی خوشی کے ساتھ اچھلتی کودتی چلی آرہی تھی میرے قریب آ کر رک گئی اور بڑی معصومیت سے سوال کیا: بابا یہ گڑھا کا ہے کے لیے ہے؟ میں نے سپاٹ لہجے میں اس سے کہا: اپنے خاندانی رسم و رواج کے مطابق میں تم کو اس میں دفن کردینا چاہتا ہوں تاکہ تمہاری پیدائش سے ہمارے خاندان اور قبیلے کو جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے اس سے نجات مل جائے۔ لڑکی کو صورت حال کا اندازہ ہوا تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گيا اور قبل اس کے اس کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار ہو، میں نے اس کو گڑھے میں دھکیل دیا ۔ لڑکی دیر تک روتی اور گڑ گڑاتی رہی لیکن مجھ پر اس کے نالہ و فریاد کا کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے گڑھے کو مٹی سے بھر دیا ، اگرچہ آخر وقت تک وہ ہاتھ اٹھائے مجھ سے زندگی کی التجا کر رہی تھی لیکن افسوس! میں نے اپنے دل کے ٹکڑے کو زندہ در گور کردیا لیکن اس کی آخری التجا اب بھی میرے کانوں میں لاوے ٹپکاتی رہتی ہے: " بابا تم نے مجھے تو دفن کردیا لیکن میری ماں کوحقیقت نہ بتانا کہہ دینا کہ میں بیٹی کو اپنے قبیلے والوں میں چھوڑ آیا ہوں"۔
__________________________ _____________
اپنے عرب صحابی سے ایک بیٹی کے زندہ درگور کر دیے جانے کی داستان سنی تو حضور صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوگیا ۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش میں جناب فاطمہ سلام اللّہ علیہا بیٹھی ہوئی تھیں ان کی آنکھوں میں بھی نمی نظر آئی نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور آپ صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے ہونٹوں پر یہ جملے جاری ہوگئے: بیٹی تو رحمت ہے اور پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: میں فاطمہ کو دیکھ کر اپنے مشام جان کو بہشت کی خوشبو سے معطر کرتا ہوں۔
__________________________ _____________
بار الٰہی میں تجھ سے موت کے وقت آرام و راحت اور قیامت کے حساب و کتاب کے وقت عفوو مغفرت کا طالب ہوں
_____________
میری بیوی حاملہ تھی ، ان ہی دنوں میں ایک سفر پر مجبور ہوگیا عرصے بعد پلٹ کر آیا تو اپنے گھر میں ایک بچی کو کھیلتے دیکھا بیوی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو بیوی نے کہا یہ تمہاری بیٹی ہے اور پھر کسی نامعلوم خوف کے تحت، التجا آمیزلہجے میں کہا: ذرا دیکھو تو کس قدر پیاری بچی ہے اس کے وجود سے گھر میں کتنی رونق ہے، یہ اگر زندہ رہے گی تو تمہاری یادگار بن کر تمہارے خاندان اور قبیلے کا نام زندہ رکھے گی۔ میں نے گردن جھکا لی، بیوی کو کوئی جواب دیے بغیر لڑکی کو بغور دیکھتا رہا لڑکی کچھ دیر تو اجنبی نگاہوں سے مجھے تکتی رہی پھر نہ جانے کیا سوچ کر بھاگتی ہوئی آئی اور میرے سینے سے لپٹ گئی، میں نے بھی جذبات کی رو میں اس کوآغوش میں بھر لیا اور پیار کرنے لگا کچھ عرصہ یونہی گزر گیا لڑکی آہستہ آہستہ بڑی ہوتی رہی اور ہوشیار ہوئی سن بلوغ کےقریب پہنچ گئی اب ماں کو میری طرف سے بالکل اطمینان ہو چکا تھا میرا رویہ بھی بیٹی کے ساتھ محبت آمیز تھا ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا: ذرا اس کو بنا سنوار دو،میں قبیلے کی ایک شادی میں اسے لے جاؤں گا ماں بیچاری خوش ہو گئی اور جلدی سے سجا سنوار کر تیار کردیا۔ میں نے لڑکی کا ہاتھ پکڑ ا اور گھر سے روانہ ہوگيا۔ ایک غیر آباد بیابان میں پہنچ کر پہلے سے تیار شدہ ایک گڑھے کے قریب میں کھڑا ہوگیا لڑکی جو بڑی خوشی کے ساتھ اچھلتی کودتی چلی آرہی تھی میرے قریب آ کر رک گئی اور بڑی معصومیت سے سوال کیا: بابا یہ گڑھا کا ہے کے لیے ہے؟ میں نے سپاٹ لہجے میں اس سے کہا: اپنے خاندانی رسم و رواج کے مطابق میں تم کو اس میں دفن کردینا چاہتا ہوں تاکہ تمہاری پیدائش سے ہمارے خاندان اور قبیلے کو جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے اس سے نجات مل جائے۔ لڑکی کو صورت حال کا اندازہ ہوا تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گيا اور قبل اس کے اس کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار ہو، میں نے اس کو گڑھے میں دھکیل دیا ۔ لڑکی دیر تک روتی اور گڑ گڑاتی رہی لیکن مجھ پر اس کے نالہ و فریاد کا کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے گڑھے کو مٹی سے بھر دیا ، اگرچہ آخر وقت تک وہ ہاتھ اٹھائے مجھ سے زندگی کی التجا کر رہی تھی لیکن افسوس! میں نے اپنے دل کے ٹکڑے کو زندہ در گور کردیا لیکن اس کی آخری التجا اب بھی میرے کانوں میں لاوے ٹپکاتی رہتی ہے: " بابا تم نے مجھے تو دفن کردیا لیکن میری ماں کوحقیقت نہ بتانا کہہ دینا کہ میں بیٹی کو اپنے قبیلے والوں میں چھوڑ آیا ہوں"۔
__________________________ _____________
اپنے عرب صحابی سے ایک بیٹی کے زندہ درگور کر دیے جانے کی داستان سنی تو حضور صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوگیا ۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش میں جناب فاطمہ سلام اللّہ علیہا بیٹھی ہوئی تھیں ان کی آنکھوں میں بھی نمی نظر آئی نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور آپ صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے ہونٹوں پر یہ جملے جاری ہوگئے: بیٹی تو رحمت ہے اور پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: میں فاطمہ کو دیکھ کر اپنے مشام جان کو بہشت کی خوشبو سے معطر کرتا ہوں۔
__________________________ _____________
بار الٰہی میں تجھ سے موت کے وقت آرام و راحت اور قیامت کے حساب و کتاب کے وقت عفوو مغفرت کا طالب ہوں
الکزنڈر دی گریٹ یعنی سکندر اعظم - بمعنی فاتح اعظم
ہم نے بچپن میں پڑھا تھا کہ مقدونیہ کا الکزنڈر ٢٠ سال کی عمر میں بادشاہ بنا، ٢٣ سال کی عمر میں مقدونیہ سے نکلا، سب سے پہلے یونان فتح کیا پھر ترکی میں داخل ہوا، پھر ایران کے دارا کو شکست دی، پھر شام میں داخل ہوا اور وہاں سے یروشلم اور بابل کا رخ کیا اور پھر مصر پہنچا- وہاں سے ہندوستان آیا اور راجہ پورس کو شکست دی، اپنے عزیز از جان گھوڑے کی یاد میں پھالیہ شہر آباد کیا اور پھر مکران کے راستے واپسی کے
سفر میں ٹائیفوایڈ میں مبتلا ہو کر بخت نصر کے محل میں ٣٣ سال کی عمر میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا- دنیا کو بتایا گیا کہ وہ اپنے وقت کا عظیم فاتح جنرل اور بادشاہ تھا اور اسی وجہ سے دنیا اس کو الکزنڈر دی گریٹ یعنی سکندر اعظم - بمعنی فاتح اعظم - کے لقب سے یاد کرتی ہے
آج اکیسویں صدی میں دنیا کے مورخین کے سامنے یہ سوال رکھا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے ہوتے ہوے کیا واقعی الکزنڈر فاتح اعظم کے لقب کا حقدار ہے ؟ سوچئے، الکزنڈر جب بادشاہ بنا تو اسے بہترین ماہروں نے گھڑ سواری اور تیراندازی سکھائی، اسے ارسطو جیسے استادوں کی صحبت ملی اور جب ٢٠ سال کا ہوا تو تخت و تاج پیش کر دیا گیا - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی سات پشتون میں کوئی بادشاہ نہیں گزرا تھا اور وہ اونٹ چراتے چراتے جوان ہوئے تھے- آپ نے نیزہ بازی اور تلوار چلانے کا ہنر بھی کسی استاد سے نہیں سیکھا تھا - الکزنڈر نے ایک منظم فوج کے ساتھ دس برسوں میں ١٧ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا، جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے بغیر کسی بڑی منظم فوج کے دس برسوں میں ٢٢ لاکھ مربع میل کا علاقہ زیرنگوں کیا جس میں روم اور ایران کی دو عظیم مملکت بھی شامل ہیں
یہ تمام علاقہ جو گھوڑوں کی پیٹھ پر سوار ہو کر فتح ہوا اس کا انتظام و انصرام بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے بہترین انداز میں چلایا- الکزنڈر نے جنگوں کے دوران بے شمار جرنیلوں کا قتل بھی کرایا اور اس کے خلاف بغاوتیں بھی ہوئیں- ہندوستان میں اسکی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار بھی کیا لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے کسی ساتھی کو انکے کسی حکم کی سرتابی کی جرات نہ تھی وہ ایسے جرنیل تھے کہ عین میدان جنگ میں حضرت خالد بن ولید جیسے سپہ سالار کو معزول کیا، حضرت سعد بن ابی وقاص کو کوفے کی گورنری سے ہٹایا، حضرت حارث بن کعب سے گورنری واپس لی، حضرت عمرو بن العاص کا مال ضبط کرنے کا حکم دیا اور حرص کے علاقے کے ایک اور گورنر کو واپس بلا کر سزا کے طور اونٹ چرانے پر لگا دیا- آپ کے ان تمام سخت فیصلوں کے خلاف کسی کو حکم عدولی کی جرات نہ ہوئی سب کو معلوم تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ فیصلہ صرف عدل کی بنیاد پر کرتے ہیں اور عدل کے خلاف وہ کچہ برداشت نہیں فرماتے
الکزنڈر نے ١٧ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا لیکن دنیا کو کوئی نظام نہ دے سکا - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے دنیا کو ایسے ایسے نظام دیے جو آج تک تک کسی نہ کسی شکل میں پوری دنیا میں رائج ہیں - دینی فیصلوں میں آپ نے فجر کی اذان میں أصلوأة خير من النوم کا اضافہ فرمایا، آپ کے عہد میں با قاعدہ تراویح کا سلسلہ شروع ہوا، شراب نوشی کی سزا مقرر ہوئی اور آپ نے سنہ ہجری کا آغاز کروایا، موذنوں کی تنخواہ مقرر کی اور تمام مسجدوں میں روشنی کا بندوبست فرمایا - دنیاوی فیصلوں میں آپ نے ایک مکمل عدالتی نظام تشکیل دیا اور جیل کا تصّور دیا، آبپاشی کا نظام بنایا، فوجی چھاؤنیاں بنوائیں اور فوج کا با قاعدہ محکمہ قائم کیا- آپ نےدنیا بھر میں پہلی مرتبہ دودھ پیتے بچوں، بیواؤں اور معذوروں کے لئے وظایف مقرر کیۓ
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے دسترخوان پر کبھی دو سالن نہیں ہوتے تھے، سفر کے دوران نیند کے وقت زمین پر اینٹ کا تکیہ بنا کر سو جایا کرتے تھے، آپ کے کرتے پر کئی پیوند رہا کرتے تھے، آپ موٹا کھردرا کپڑا پہنا کرتے تھے اور آپ کو باریک ملایم کپڑے سے نفرت تھی - آپ جب بھی کسی کو گورنر مقرر فرماتے تو تاکید کرتے تھے کہ کبھی ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھنا، باریک کپڑا نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی پر دروازہ بند نہ کرنا - آپ فرماتے تھے کہ عادل حکمران بے خوف ہو کر سوتا ہے - آپ کی سرکاری مہر پر لکھا تھا 'عمر - نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے'
آپ فرماتے 'ظالم کو معاف کرنا مظلوم پر ظلم کرنے کے برابر ہے'، اور آپ کا یہ فقرہ آج دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے چارٹر کا درجہ رکھتا ہے کہ ' مائیں اپنے بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں، تم نے کب سے انھیں غلام بنا لیا؟ ' آپ کے عدل کی وجہ سے رسول الله صل اللہ علیھ وسلّم نے آپ کو 'فاروق' کا لقب دیا اور آج دنیا میں عدل فاروقی ایک مثال بن گیا ہے - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ شہادت کے وقت مقروض تھے چنانچہ وصیّت کے مطابق آپ کا مکان بیچ کر آپ کا قرض ادا کیا گیا
اگر آج دنیا بھر کے مورخین الکزنڈر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کا موازنہ کرتے ہیں تو انھیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی پہاڑ جیسی شخصیت کے سامنے الکزنڈر ایک کنکر سے زیادہ نہیں معلوم ہوتا کیونکہ الکزنڈر کی بنائی سلطنت اسکے مرنے کے پانچ سال بعد ہی ختم ہو گئی تھی جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے جس جس خطّے میں اسلام کا جھنڈا لگایا وہاں آج بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا سنایی دیتی ہے - الکزنڈر کا نام آج صرف کتابوں میں ملتا ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے دئیے ہوے نظام آج بھی کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ٢٤٥ ملکوں میں رائج ہیں - آج بھی جب کبھی کوئی خط کسی ڈاک خانے سے نکلتا ہے، یا کوئی سپاہی وردی پہنتا ہے، یا وہ چھٹی پر جاتا ہے، یا پھر کوئی معذور یا بیوہ حکومت سے وظیفہ پاتے ہیں تو بلا شبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی عظمت تسلیم کرنی پڑتی ہے.
تقسیم ہند کے دوران لاہور کے مسلمانوں نے ایک مرتبہ انگریزوں کو دھمکی دی کہ 'اگر ہم گھروں سے نکل پڑے تو تمہیں چنگیز خان یاد آ جاۓ گا' .. اس پر جواھر لال نہرو نے کہا کہ 'افسوس یہ مسلمان بھول گئے کہ ان کی تاریخ میں کوئی عمر فاروق (رضی اللہ عنھ) بھی تھا'...
اور واقعی آج ہم یہ بھولے ہوے ہیں کہ رسول الله صل اللہ علیھ وسلّم نے فرمایا تھا کہ "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمربن خطاب ہی ہوتا.
آج اکیسویں صدی میں دنیا کے مورخین کے سامنے یہ سوال رکھا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے ہوتے ہوے کیا واقعی الکزنڈر فاتح اعظم کے لقب کا حقدار ہے ؟ سوچئے، الکزنڈر جب بادشاہ بنا تو اسے بہترین ماہروں نے گھڑ سواری اور تیراندازی سکھائی، اسے ارسطو جیسے استادوں کی صحبت ملی اور جب ٢٠ سال کا ہوا تو تخت و تاج پیش کر دیا گیا - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی سات پشتون میں کوئی بادشاہ نہیں گزرا تھا اور وہ اونٹ چراتے چراتے جوان ہوئے تھے- آپ نے نیزہ بازی اور تلوار چلانے کا ہنر بھی کسی استاد سے نہیں سیکھا تھا - الکزنڈر نے ایک منظم فوج کے ساتھ دس برسوں میں ١٧ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا، جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے بغیر کسی بڑی منظم فوج کے دس برسوں میں ٢٢ لاکھ مربع میل کا علاقہ زیرنگوں کیا جس میں روم اور ایران کی دو عظیم مملکت بھی شامل ہیں
یہ تمام علاقہ جو گھوڑوں کی پیٹھ پر سوار ہو کر فتح ہوا اس کا انتظام و انصرام بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے بہترین انداز میں چلایا- الکزنڈر نے جنگوں کے دوران بے شمار جرنیلوں کا قتل بھی کرایا اور اس کے خلاف بغاوتیں بھی ہوئیں- ہندوستان میں اسکی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار بھی کیا لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے کسی ساتھی کو انکے کسی حکم کی سرتابی کی جرات نہ تھی وہ ایسے جرنیل تھے کہ عین میدان جنگ میں حضرت خالد بن ولید جیسے سپہ سالار کو معزول کیا، حضرت سعد بن ابی وقاص کو کوفے کی گورنری سے ہٹایا، حضرت حارث بن کعب سے گورنری واپس لی، حضرت عمرو بن العاص کا مال ضبط کرنے کا حکم دیا اور حرص کے علاقے کے ایک اور گورنر کو واپس بلا کر سزا کے طور اونٹ چرانے پر لگا دیا- آپ کے ان تمام سخت فیصلوں کے خلاف کسی کو حکم عدولی کی جرات نہ ہوئی سب کو معلوم تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ فیصلہ صرف عدل کی بنیاد پر کرتے ہیں اور عدل کے خلاف وہ کچہ برداشت نہیں فرماتے
الکزنڈر نے ١٧ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا لیکن دنیا کو کوئی نظام نہ دے سکا - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے دنیا کو ایسے ایسے نظام دیے جو آج تک تک کسی نہ کسی شکل میں پوری دنیا میں رائج ہیں - دینی فیصلوں میں آپ نے فجر کی اذان میں أصلوأة خير من النوم کا اضافہ فرمایا، آپ کے عہد میں با قاعدہ تراویح کا سلسلہ شروع ہوا، شراب نوشی کی سزا مقرر ہوئی اور آپ نے سنہ ہجری کا آغاز کروایا، موذنوں کی تنخواہ مقرر کی اور تمام مسجدوں میں روشنی کا بندوبست فرمایا - دنیاوی فیصلوں میں آپ نے ایک مکمل عدالتی نظام تشکیل دیا اور جیل کا تصّور دیا، آبپاشی کا نظام بنایا، فوجی چھاؤنیاں بنوائیں اور فوج کا با قاعدہ محکمہ قائم کیا- آپ نےدنیا بھر میں پہلی مرتبہ دودھ پیتے بچوں، بیواؤں اور معذوروں کے لئے وظایف مقرر کیۓ
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے دسترخوان پر کبھی دو سالن نہیں ہوتے تھے، سفر کے دوران نیند کے وقت زمین پر اینٹ کا تکیہ بنا کر سو جایا کرتے تھے، آپ کے کرتے پر کئی پیوند رہا کرتے تھے، آپ موٹا کھردرا کپڑا پہنا کرتے تھے اور آپ کو باریک ملایم کپڑے سے نفرت تھی - آپ جب بھی کسی کو گورنر مقرر فرماتے تو تاکید کرتے تھے کہ کبھی ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھنا، باریک کپڑا نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی پر دروازہ بند نہ کرنا - آپ فرماتے تھے کہ عادل حکمران بے خوف ہو کر سوتا ہے - آپ کی سرکاری مہر پر لکھا تھا 'عمر - نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے'
آپ فرماتے 'ظالم کو معاف کرنا مظلوم پر ظلم کرنے کے برابر ہے'، اور آپ کا یہ فقرہ آج دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے چارٹر کا درجہ رکھتا ہے کہ ' مائیں اپنے بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں، تم نے کب سے انھیں غلام بنا لیا؟ ' آپ کے عدل کی وجہ سے رسول الله صل اللہ علیھ وسلّم نے آپ کو 'فاروق' کا لقب دیا اور آج دنیا میں عدل فاروقی ایک مثال بن گیا ہے - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ شہادت کے وقت مقروض تھے چنانچہ وصیّت کے مطابق آپ کا مکان بیچ کر آپ کا قرض ادا کیا گیا
اگر آج دنیا بھر کے مورخین الکزنڈر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کا موازنہ کرتے ہیں تو انھیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی پہاڑ جیسی شخصیت کے سامنے الکزنڈر ایک کنکر سے زیادہ نہیں معلوم ہوتا کیونکہ الکزنڈر کی بنائی سلطنت اسکے مرنے کے پانچ سال بعد ہی ختم ہو گئی تھی جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے جس جس خطّے میں اسلام کا جھنڈا لگایا وہاں آج بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا سنایی دیتی ہے - الکزنڈر کا نام آج صرف کتابوں میں ملتا ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے دئیے ہوے نظام آج بھی کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ٢٤٥ ملکوں میں رائج ہیں - آج بھی جب کبھی کوئی خط کسی ڈاک خانے سے نکلتا ہے، یا کوئی سپاہی وردی پہنتا ہے، یا وہ چھٹی پر جاتا ہے، یا پھر کوئی معذور یا بیوہ حکومت سے وظیفہ پاتے ہیں تو بلا شبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی عظمت تسلیم کرنی پڑتی ہے.
تقسیم ہند کے دوران لاہور کے مسلمانوں نے ایک مرتبہ انگریزوں کو دھمکی دی کہ 'اگر ہم گھروں سے نکل پڑے تو تمہیں چنگیز خان یاد آ جاۓ گا' .. اس پر جواھر لال نہرو نے کہا کہ 'افسوس یہ مسلمان بھول گئے کہ ان کی تاریخ میں کوئی عمر فاروق (رضی اللہ عنھ) بھی تھا'...
اور واقعی آج ہم یہ بھولے ہوے ہیں کہ رسول الله صل اللہ علیھ وسلّم نے فرمایا تھا کہ "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمربن خطاب ہی ہوتا.
سفر میں ٹائیفوایڈ میں مبتلا ہو کر بخت نصر کے محل میں ٣٣ سال کی عمر میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا- دنیا کو بتایا گیا کہ وہ اپنے وقت کا عظیم فاتح جنرل اور بادشاہ تھا اور اسی وجہ سے دنیا اس کو الکزنڈر دی گریٹ یعنی سکندر اعظم - بمعنی فاتح اعظم - کے لقب سے یاد کرتی ہے
آج اکیسویں صدی میں دنیا کے مورخین کے سامنے یہ سوال رکھا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے ہوتے ہوے کیا واقعی الکزنڈر فاتح اعظم کے لقب کا حقدار ہے ؟ سوچئے، الکزنڈر جب بادشاہ بنا تو اسے بہترین ماہروں نے گھڑ سواری اور تیراندازی سکھائی، اسے ارسطو جیسے استادوں کی صحبت ملی اور جب ٢٠ سال کا ہوا تو تخت و تاج پیش کر دیا گیا - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی سات پشتون میں کوئی بادشاہ نہیں گزرا تھا اور وہ اونٹ چراتے چراتے جوان ہوئے تھے- آپ نے نیزہ بازی اور تلوار چلانے کا ہنر بھی کسی استاد سے نہیں سیکھا تھا - الکزنڈر نے ایک منظم فوج کے ساتھ دس برسوں میں ١٧ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا، جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے بغیر کسی بڑی منظم فوج کے دس برسوں میں ٢٢ لاکھ مربع میل کا علاقہ زیرنگوں کیا جس میں روم اور ایران کی دو عظیم مملکت بھی شامل ہیں
یہ تمام علاقہ جو گھوڑوں کی پیٹھ پر سوار ہو کر فتح ہوا اس کا انتظام و انصرام بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے بہترین انداز میں چلایا- الکزنڈر نے جنگوں کے دوران بے شمار جرنیلوں کا قتل بھی کرایا اور اس کے خلاف بغاوتیں بھی ہوئیں- ہندوستان میں اسکی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار بھی کیا لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے کسی ساتھی کو انکے کسی حکم کی سرتابی کی جرات نہ تھی وہ ایسے جرنیل تھے کہ عین میدان جنگ میں حضرت خالد بن ولید جیسے سپہ سالار کو معزول کیا، حضرت سعد بن ابی وقاص کو کوفے کی گورنری سے ہٹایا، حضرت حارث بن کعب سے گورنری واپس لی، حضرت عمرو بن العاص کا مال ضبط کرنے کا حکم دیا اور حرص کے علاقے کے ایک اور گورنر کو واپس بلا کر سزا کے طور اونٹ چرانے پر لگا دیا- آپ کے ان تمام سخت فیصلوں کے خلاف کسی کو حکم عدولی کی جرات نہ ہوئی سب کو معلوم تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ فیصلہ صرف عدل کی بنیاد پر کرتے ہیں اور عدل کے خلاف وہ کچہ برداشت نہیں فرماتے
الکزنڈر نے ١٧ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا لیکن دنیا کو کوئی نظام نہ دے سکا - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے دنیا کو ایسے ایسے نظام دیے جو آج تک تک کسی نہ کسی شکل میں پوری دنیا میں رائج ہیں - دینی فیصلوں میں آپ نے فجر کی اذان میں أصلوأة خير من النوم کا اضافہ فرمایا، آپ کے عہد میں با قاعدہ تراویح کا سلسلہ شروع ہوا، شراب نوشی کی سزا مقرر ہوئی اور آپ نے سنہ ہجری کا آغاز کروایا، موذنوں کی تنخواہ مقرر کی اور تمام مسجدوں میں روشنی کا بندوبست فرمایا - دنیاوی فیصلوں میں آپ نے ایک مکمل عدالتی نظام تشکیل دیا اور جیل کا تصّور دیا، آبپاشی کا نظام بنایا، فوجی چھاؤنیاں بنوائیں اور فوج کا با قاعدہ محکمہ قائم کیا- آپ نےدنیا بھر میں پہلی مرتبہ دودھ پیتے بچوں، بیواؤں اور معذوروں کے لئے وظایف مقرر کیۓ
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے دسترخوان پر کبھی دو سالن نہیں ہوتے تھے، سفر کے دوران نیند کے وقت زمین پر اینٹ کا تکیہ بنا کر سو جایا کرتے تھے، آپ کے کرتے پر کئی پیوند رہا کرتے تھے، آپ موٹا کھردرا کپڑا پہنا کرتے تھے اور آپ کو باریک ملایم کپڑے سے نفرت تھی - آپ جب بھی کسی کو گورنر مقرر فرماتے تو تاکید کرتے تھے کہ کبھی ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھنا، باریک کپڑا نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی پر دروازہ بند نہ کرنا - آپ فرماتے تھے کہ عادل حکمران بے خوف ہو کر سوتا ہے - آپ کی سرکاری مہر پر لکھا تھا 'عمر - نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے'
آپ فرماتے 'ظالم کو معاف کرنا مظلوم پر ظلم کرنے کے برابر ہے'، اور آپ کا یہ فقرہ آج دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے چارٹر کا درجہ رکھتا ہے کہ ' مائیں اپنے بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں، تم نے کب سے انھیں غلام بنا لیا؟ ' آپ کے عدل کی وجہ سے رسول الله صل اللہ علیھ وسلّم نے آپ کو 'فاروق' کا لقب دیا اور آج دنیا میں عدل فاروقی ایک مثال بن گیا ہے - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ شہادت کے وقت مقروض تھے چنانچہ وصیّت کے مطابق آپ کا مکان بیچ کر آپ کا قرض ادا کیا گیا
اگر آج دنیا بھر کے مورخین الکزنڈر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کا موازنہ کرتے ہیں تو انھیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی پہاڑ جیسی شخصیت کے سامنے الکزنڈر ایک کنکر سے زیادہ نہیں معلوم ہوتا کیونکہ الکزنڈر کی بنائی سلطنت اسکے مرنے کے پانچ سال بعد ہی ختم ہو گئی تھی جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے جس جس خطّے میں اسلام کا جھنڈا لگایا وہاں آج بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا سنایی دیتی ہے - الکزنڈر کا نام آج صرف کتابوں میں ملتا ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کے دئیے ہوے نظام آج بھی کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ٢٤٥ ملکوں میں رائج ہیں - آج بھی جب کبھی کوئی خط کسی ڈاک خانے سے نکلتا ہے، یا کوئی سپاہی وردی پہنتا ہے، یا وہ چھٹی پر جاتا ہے، یا پھر کوئی معذور یا بیوہ حکومت سے وظیفہ پاتے ہیں تو بلا شبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کی عظمت تسلیم کرنی پڑتی ہے.
تقسیم ہند کے دوران لاہور کے مسلمانوں نے ایک مرتبہ انگریزوں کو دھمکی دی کہ 'اگر ہم گھروں سے نکل پڑے تو تمہیں چنگیز خان یاد آ جاۓ گا' .. اس پر جواھر لال نہرو نے کہا کہ 'افسوس یہ مسلمان بھول گئے کہ ان کی تاریخ میں کوئی عمر فاروق (رضی اللہ عنھ) بھی تھا'...
اور واقعی آج ہم یہ بھولے ہوے ہیں کہ رسول الله صل اللہ علیھ وسلّم نے فرمایا تھا کہ "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمربن خطاب ہی ہوتا.
Thursday, November 8, 2012
آنسوﺅں میں ڈوبتا امریکہ
آنسوﺅں میں ڈوبتا امریکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہتے طالبان نے فرعون امریکہ کو کس حال پر پہنچا دیا؟
تازہ ترین حالات کا تجزیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی عمران شاہین کے قلم سے
افغانستان کا صوبہ قندھار.... اس کی شہرت یہ ہے کہ اس پر جو قابض ہوتا ہے، وہی ملک پر حکومت کرتا ہے۔ آج کل اس قندھار پر عملاً تو طالبان کی ہی حکومت ہے لیکن یہاں ایک امریکی کیمپ بھی موجود ہے۔ آج 19 اکتوبر ہے اور امریکی فوج کے کیمپ ناتھن میں آہ و بکا ہو رہ
ی ہے۔ ا مریکی فوجی ایک دوسرے کے گلے لگ لگ کر رو رہے ہیں.... ان کے سامنے 2 فوجی بوٹ پڑے ہیں جن کے اوپر ایک جدید ترین بندوق الٹی کھڑی ہے۔ اس بندوق کے اوپر فوجی ہیلمٹ رکھا ہوا ہے۔ بوٹوں کے اردگرد فوجی تمغے اور اعزازات پڑے ہوئے ہیں اور رونے والے فوجی اس کے گرد گھیرا ڈال کر بلک بلک کر آنسو بہا رہے ہیں اور کیوں....؟ اس لئے کہ ایک روز پہلے یہیں ان کا ایک اہم ساتھی برٹنی گورڈن طالبان کے حملے میں مارا گیا تھا، یوں اب اس کی باقیات رکھ کر ماتم جاری ہے لیکن امریکیوں کے دل کو سکون نہیں آ رہا ۔
یہ اسی دن کا ایک اور لیکن امریکہ کے اندر کا منظر ہے۔ ریاست لاس اینجلس کے فوجی مرکز میں فوج کی 225 ویں ملٹی رول برج کمپنی کے 200 ماہر سپاہیوں کو افغانستان روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں سے نکلنے والی اپنی فوج کے لئے راہ ہموار کر سکیں اور وہاں افغان فوج کو انتظامات سنبھالنے کیلئے تیار کر سکیں۔ یہاں یہ فوجی بھی جمع ہیں اور ان کے اہل خانہ اور بچے بھی موجود ہیں۔ یہاں بھی منظر عجیب ہے، ہر بچہ اپنے فوجی باپ کو اور ہر عورت اپنے خاوند، بھائی یا بیٹے کو گلے لگا لگا کر اور چمٹ چمٹ کر رو رہی ہے کہ پتہ نہیں، یہ واپس بھی آئیں گے کہ نہیں۔ آہوں اور سسکیوں سے سارا ہال گونج رہا ہے لیکن کوئی کسی کو دلاسہ دینے والا نہیں سبھی رونے والے ہیں۔
ایسے مناظر آج کل امریکہ میں عام ہیں، جو فوجی واپس آ رہے ہیں، ان کے لواحقین انہیں زندہ سلامت پا کر روتے ہیں کہ چلو آیا تو سہی.... اگرچہ وہ اب پاگل ہے.... نفسیاتی مریض ہے، ہاتھ، پاﺅں یا ٹانگ سے محروم ہے یا اس کا چہرہ جل گیا ہے۔
یہی حال امریکہ کے صدر کا ہے جس کے بارے میں دنیا کہتی ہے کہ یہ دنیا کا طاقتور ترین انسان ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں وہ ایٹمی بٹن ہوتا ہے کہ جس کو اگر دبا دیا جائے تو ساری روئے زمین ایک بار نہیںبلکہ 6 بار جل کر مکمل خاکستر ہو جائے.... لیکن اس صدر کو اب یہ بٹن دبانے کی جرا¿ت و ہمت نہیں بلکہ اس کی طرف توجہ کی بجائے اب تو اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا؟وہ کبھی افغانستان سے بھری لاشوں سے ا ٓنے والے جہازوں کو دیکھ کر ایئر پورٹ پر روتاہے کبھی فوجیوں کی قبروں پر اور کبھی ماتمی مجلسوں میں.... امریکہ کی تاریخ میں اتنے آنسو شاید پہلے کسی صدر کے نہیں بہائے ہوں گے۔
ہر امریکی آج یہی سوچتا نظر آتا ہے کہ افغانستان کے 11 سال نے ہمارا حال کیا سے کیا کر دیا ہے؟ جی ہاں! یہ وہی امریکہ ہے کہ جو کل تک ”خدائی“ کا دعویدار تھا لیکن دشمن کے ہاتھوں مرنے پر نہ رونے والے افغانیوں نے ننگے پاﺅں اور ننگے جسم سے وہ حشر کردیا کہ غرور و تکبر کے سارے لبادے ہی اتر گئے۔ میرے سامنے اس وقت امریکی صحافی گیرتھ پورٹر کی چند روز پہلے کی ایک رپورٹ پڑی ہے جس کا عنوان ہے :
How the US Quietly Lost the IED War in Afghanistan
”امریکہ افغانستان میں دیسی ساختہ بموں کی جنگ کیسے مکمل طور پر ہار گیا“۔
صحافی لکھتا ہے کہ افغانستان میں سال 2012ءکی شہرت تو اس بات سے تھی کہ افغان فوج نے اندرونی جنگ میں اتحادیوں کو بے تحاشہ مارا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکہ دیسی ساختہ بموں یعنی IED Improvised Explosive Devices کی جنگ طالبان سے ہار گیا ہے۔ اگرچہ دعوے تو کئے جا رہے ہیں کہ دیسی ساختہ بموں کے دھماکے اور کارروائیاں کم ہو گئی ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں ہے، 2009ءسے 2011ءکے عرصے میں ایسے بموں سے امریکی اعتراف کے مطابق امریکی و اتحادی افواج پر 14627 حملے ہوئے۔2011ءمیں ان کی شرح میں اضافہ ہوا تھا۔امریکہ نے ان حملوں کو روکنے کیلئے{Jieddo} IED Defeat Joint Organization کے نام سے ادارہ بنایا۔ اس ادارے نے 18ارب ڈالر خرچ کر کے اعلیٰ اور حساس ترین آلات جن میں روبوٹ اور حساس کیمرے تک شامل تھے، تیار کئے لیکن مقابلے میں طالبان نے انتہائی سادہ طریقے سے بنائے جانے والے بموں اور دھماکوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھا دی، دھماکے بڑھے تو امریکی جرنیلوں ڈیوڈ پیٹریاس اور جنرل میکرسٹل نے حکمت عملی تشکیل دی کہ ”ہم گاڑیوں سے باہر نہیں نکلتے، عام لوگوں سے نہیں ملتے تو حملے لازماً بڑھیں گے۔ ہمیں فولادی قلعہ نما جنگی گاڑیوں سے نکل کر عوام میں جانا اور باہمی اعتماد پیدا کرنا ہو گا تاکہ وہ ہمیں اطلاعات دیں اور ہم ان بموں سے بچ جائیں“ لیکن اس حکمت عملی کا انجام اور بھی خطرناک نکلا کیونکہ گاڑیوں میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد نسبتاً کم تھی لیکن جب انہوں نے باہر نکلنا شروع کیا تو اموات اور تباہی کہیں بڑھ گئی، حالت یہاں تک پہنچی کہ امریکی فوج کی ٹاسک فورس نے جون 2011ءمیں جنگ میں لگنے والے فوجیوں کے نئے قسم کے زخموں کو Dismount Complete Blast injury کا نام دے دیا جس میں ذہنی دباﺅ اور نقصان کے ساتھ ٹانگوں کے علاوہ نازک اعضا بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ جنوری 2011ءمیں JIEDDO کے سربراہ جنرل اوٹس نے واشنگٹن پوسٹ کو دیئے انٹرویو میں کھلا اعتراف کیا کہ We are Losing the IED fight in Afghanistan”ہم افغانستان دیسی بموں کی جنگ ہار رہے ہیں“۔
یوں اس تناظر میں دیکھیں تو منظر نامہ عجیب نظر آتا ہے کہ ایک طرف اندھی دولت، ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی کا اوج کمال، طاقت بے حساب اور دوسری طرف خالی ہاتھ یا زیادہ سے زیادہ ریت، پتھر اور کنکر پھر یہ کیا ہوا کہ امریکی رو پڑے.... جو کہتے تھے ہم اس قدر معزز و محترم ہیں کہ ہمارے کتوں کو بھی دنیا میں کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ آج انہی امریکیوں کی آنکھیں خون کے آنسو رو رہی ہیں، سب کچھ نامراد ٹھہراہے۔ کہانی نکھر کر سامنے آ رہی ہے.... وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ جو ہم کل کہتے تھے لوگ ماننے سے انکاری تھے۔ آج ماننے پر مجبور ہیں تو پھر مان لو.... امریکہ برباد.... جہاد کامیاب.... یہی اللہ نے لکھا تھا اور یہی آج کا فیصلہ ہے۔
یہ اسی دن کا ایک اور لیکن امریکہ کے اندر کا منظر ہے۔ ریاست لاس اینجلس کے فوجی مرکز میں فوج کی 225 ویں ملٹی رول برج کمپنی کے 200 ماہر سپاہیوں کو افغانستان روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں سے نکلنے والی اپنی فوج کے لئے راہ ہموار کر سکیں اور وہاں افغان فوج کو انتظامات سنبھالنے کیلئے تیار کر سکیں۔ یہاں یہ فوجی بھی جمع ہیں اور ان کے اہل خانہ اور بچے بھی موجود ہیں۔ یہاں بھی منظر عجیب ہے، ہر بچہ اپنے فوجی باپ کو اور ہر عورت اپنے خاوند، بھائی یا بیٹے کو گلے لگا لگا کر اور چمٹ چمٹ کر رو رہی ہے کہ پتہ نہیں، یہ واپس بھی آئیں گے کہ نہیں۔ آہوں اور سسکیوں سے سارا ہال گونج رہا ہے لیکن کوئی کسی کو دلاسہ دینے والا نہیں سبھی رونے والے ہیں۔
ایسے مناظر آج کل امریکہ میں عام ہیں، جو فوجی واپس آ رہے ہیں، ان کے لواحقین انہیں زندہ سلامت پا کر روتے ہیں کہ چلو آیا تو سہی.... اگرچہ وہ اب پاگل ہے.... نفسیاتی مریض ہے، ہاتھ، پاﺅں یا ٹانگ سے محروم ہے یا اس کا چہرہ جل گیا ہے۔
یہی حال امریکہ کے صدر کا ہے جس کے بارے میں دنیا کہتی ہے کہ یہ دنیا کا طاقتور ترین انسان ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں وہ ایٹمی بٹن ہوتا ہے کہ جس کو اگر دبا دیا جائے تو ساری روئے زمین ایک بار نہیںبلکہ 6 بار جل کر مکمل خاکستر ہو جائے.... لیکن اس صدر کو اب یہ بٹن دبانے کی جرا¿ت و ہمت نہیں بلکہ اس کی طرف توجہ کی بجائے اب تو اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا؟وہ کبھی افغانستان سے بھری لاشوں سے ا ٓنے والے جہازوں کو دیکھ کر ایئر پورٹ پر روتاہے کبھی فوجیوں کی قبروں پر اور کبھی ماتمی مجلسوں میں.... امریکہ کی تاریخ میں اتنے آنسو شاید پہلے کسی صدر کے نہیں بہائے ہوں گے۔
ہر امریکی آج یہی سوچتا نظر آتا ہے کہ افغانستان کے 11 سال نے ہمارا حال کیا سے کیا کر دیا ہے؟ جی ہاں! یہ وہی امریکہ ہے کہ جو کل تک ”خدائی“ کا دعویدار تھا لیکن دشمن کے ہاتھوں مرنے پر نہ رونے والے افغانیوں نے ننگے پاﺅں اور ننگے جسم سے وہ حشر کردیا کہ غرور و تکبر کے سارے لبادے ہی اتر گئے۔ میرے سامنے اس وقت امریکی صحافی گیرتھ پورٹر کی چند روز پہلے کی ایک رپورٹ پڑی ہے جس کا عنوان ہے :
How the US Quietly Lost the IED War in Afghanistan
”امریکہ افغانستان میں دیسی ساختہ بموں کی جنگ کیسے مکمل طور پر ہار گیا“۔
صحافی لکھتا ہے کہ افغانستان میں سال 2012ءکی شہرت تو اس بات سے تھی کہ افغان فوج نے اندرونی جنگ میں اتحادیوں کو بے تحاشہ مارا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکہ دیسی ساختہ بموں یعنی IED Improvised Explosive Devices کی جنگ طالبان سے ہار گیا ہے۔ اگرچہ دعوے تو کئے جا رہے ہیں کہ دیسی ساختہ بموں کے دھماکے اور کارروائیاں کم ہو گئی ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں ہے، 2009ءسے 2011ءکے عرصے میں ایسے بموں سے امریکی اعتراف کے مطابق امریکی و اتحادی افواج پر 14627 حملے ہوئے۔2011ءمیں ان کی شرح میں اضافہ ہوا تھا۔امریکہ نے ان حملوں کو روکنے کیلئے{Jieddo} IED Defeat Joint Organization کے نام سے ادارہ بنایا۔ اس ادارے نے 18ارب ڈالر خرچ کر کے اعلیٰ اور حساس ترین آلات جن میں روبوٹ اور حساس کیمرے تک شامل تھے، تیار کئے لیکن مقابلے میں طالبان نے انتہائی سادہ طریقے سے بنائے جانے والے بموں اور دھماکوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھا دی، دھماکے بڑھے تو امریکی جرنیلوں ڈیوڈ پیٹریاس اور جنرل میکرسٹل نے حکمت عملی تشکیل دی کہ ”ہم گاڑیوں سے باہر نہیں نکلتے، عام لوگوں سے نہیں ملتے تو حملے لازماً بڑھیں گے۔ ہمیں فولادی قلعہ نما جنگی گاڑیوں سے نکل کر عوام میں جانا اور باہمی اعتماد پیدا کرنا ہو گا تاکہ وہ ہمیں اطلاعات دیں اور ہم ان بموں سے بچ جائیں“ لیکن اس حکمت عملی کا انجام اور بھی خطرناک نکلا کیونکہ گاڑیوں میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد نسبتاً کم تھی لیکن جب انہوں نے باہر نکلنا شروع کیا تو اموات اور تباہی کہیں بڑھ گئی، حالت یہاں تک پہنچی کہ امریکی فوج کی ٹاسک فورس نے جون 2011ءمیں جنگ میں لگنے والے فوجیوں کے نئے قسم کے زخموں کو Dismount Complete Blast injury کا نام دے دیا جس میں ذہنی دباﺅ اور نقصان کے ساتھ ٹانگوں کے علاوہ نازک اعضا بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ جنوری 2011ءمیں JIEDDO کے سربراہ جنرل اوٹس نے واشنگٹن پوسٹ کو دیئے انٹرویو میں کھلا اعتراف کیا کہ We are Losing the IED fight in Afghanistan”ہم افغانستان دیسی بموں کی جنگ ہار رہے ہیں“۔
یوں اس تناظر میں دیکھیں تو منظر نامہ عجیب نظر آتا ہے کہ ایک طرف اندھی دولت، ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی کا اوج کمال، طاقت بے حساب اور دوسری طرف خالی ہاتھ یا زیادہ سے زیادہ ریت، پتھر اور کنکر پھر یہ کیا ہوا کہ امریکی رو پڑے.... جو کہتے تھے ہم اس قدر معزز و محترم ہیں کہ ہمارے کتوں کو بھی دنیا میں کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ آج انہی امریکیوں کی آنکھیں خون کے آنسو رو رہی ہیں، سب کچھ نامراد ٹھہراہے۔ کہانی نکھر کر سامنے آ رہی ہے.... وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ جو ہم کل کہتے تھے لوگ ماننے سے انکاری تھے۔ آج ماننے پر مجبور ہیں تو پھر مان لو.... امریکہ برباد.... جہاد کامیاب.... یہی اللہ نے لکھا تھا اور یہی آج کا فیصلہ ہے۔
ی ہے۔ ا مریکی فوجی ایک دوسرے کے گلے لگ لگ کر رو رہے ہیں.... ان کے سامنے 2 فوجی بوٹ پڑے ہیں جن کے اوپر ایک جدید ترین بندوق الٹی کھڑی ہے۔ اس بندوق کے اوپر فوجی ہیلمٹ رکھا ہوا ہے۔ بوٹوں کے اردگرد فوجی تمغے اور اعزازات پڑے ہوئے ہیں اور رونے والے فوجی اس کے گرد گھیرا ڈال کر بلک بلک کر آنسو بہا رہے ہیں اور کیوں....؟ اس لئے کہ ایک روز پہلے یہیں ان کا ایک اہم ساتھی برٹنی گورڈن طالبان کے حملے میں مارا گیا تھا، یوں اب اس کی باقیات رکھ کر ماتم جاری ہے لیکن امریکیوں کے دل کو سکون نہیں آ رہا ۔
یہ اسی دن کا ایک اور لیکن امریکہ کے اندر کا منظر ہے۔ ریاست لاس اینجلس کے فوجی مرکز میں فوج کی 225 ویں ملٹی رول برج کمپنی کے 200 ماہر سپاہیوں کو افغانستان روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں سے نکلنے والی اپنی فوج کے لئے راہ ہموار کر سکیں اور وہاں افغان فوج کو انتظامات سنبھالنے کیلئے تیار کر سکیں۔ یہاں یہ فوجی بھی جمع ہیں اور ان کے اہل خانہ اور بچے بھی موجود ہیں۔ یہاں بھی منظر عجیب ہے، ہر بچہ اپنے فوجی باپ کو اور ہر عورت اپنے خاوند، بھائی یا بیٹے کو گلے لگا لگا کر اور چمٹ چمٹ کر رو رہی ہے کہ پتہ نہیں، یہ واپس بھی آئیں گے کہ نہیں۔ آہوں اور سسکیوں سے سارا ہال گونج رہا ہے لیکن کوئی کسی کو دلاسہ دینے والا نہیں سبھی رونے والے ہیں۔
ایسے مناظر آج کل امریکہ میں عام ہیں، جو فوجی واپس آ رہے ہیں، ان کے لواحقین انہیں زندہ سلامت پا کر روتے ہیں کہ چلو آیا تو سہی.... اگرچہ وہ اب پاگل ہے.... نفسیاتی مریض ہے، ہاتھ، پاﺅں یا ٹانگ سے محروم ہے یا اس کا چہرہ جل گیا ہے۔
یہی حال امریکہ کے صدر کا ہے جس کے بارے میں دنیا کہتی ہے کہ یہ دنیا کا طاقتور ترین انسان ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں وہ ایٹمی بٹن ہوتا ہے کہ جس کو اگر دبا دیا جائے تو ساری روئے زمین ایک بار نہیںبلکہ 6 بار جل کر مکمل خاکستر ہو جائے.... لیکن اس صدر کو اب یہ بٹن دبانے کی جرا¿ت و ہمت نہیں بلکہ اس کی طرف توجہ کی بجائے اب تو اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا؟وہ کبھی افغانستان سے بھری لاشوں سے ا ٓنے والے جہازوں کو دیکھ کر ایئر پورٹ پر روتاہے کبھی فوجیوں کی قبروں پر اور کبھی ماتمی مجلسوں میں.... امریکہ کی تاریخ میں اتنے آنسو شاید پہلے کسی صدر کے نہیں بہائے ہوں گے۔
ہر امریکی آج یہی سوچتا نظر آتا ہے کہ افغانستان کے 11 سال نے ہمارا حال کیا سے کیا کر دیا ہے؟ جی ہاں! یہ وہی امریکہ ہے کہ جو کل تک ”خدائی“ کا دعویدار تھا لیکن دشمن کے ہاتھوں مرنے پر نہ رونے والے افغانیوں نے ننگے پاﺅں اور ننگے جسم سے وہ حشر کردیا کہ غرور و تکبر کے سارے لبادے ہی اتر گئے۔ میرے سامنے اس وقت امریکی صحافی گیرتھ پورٹر کی چند روز پہلے کی ایک رپورٹ پڑی ہے جس کا عنوان ہے :
How the US Quietly Lost the IED War in Afghanistan
”امریکہ افغانستان میں دیسی ساختہ بموں کی جنگ کیسے مکمل طور پر ہار گیا“۔
صحافی لکھتا ہے کہ افغانستان میں سال 2012ءکی شہرت تو اس بات سے تھی کہ افغان فوج نے اندرونی جنگ میں اتحادیوں کو بے تحاشہ مارا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکہ دیسی ساختہ بموں یعنی IED Improvised Explosive Devices کی جنگ طالبان سے ہار گیا ہے۔ اگرچہ دعوے تو کئے جا رہے ہیں کہ دیسی ساختہ بموں کے دھماکے اور کارروائیاں کم ہو گئی ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں ہے، 2009ءسے 2011ءکے عرصے میں ایسے بموں سے امریکی اعتراف کے مطابق امریکی و اتحادی افواج پر 14627 حملے ہوئے۔2011ءمیں ان کی شرح میں اضافہ ہوا تھا۔امریکہ نے ان حملوں کو روکنے کیلئے{Jieddo} IED Defeat Joint Organization کے نام سے ادارہ بنایا۔ اس ادارے نے 18ارب ڈالر خرچ کر کے اعلیٰ اور حساس ترین آلات جن میں روبوٹ اور حساس کیمرے تک شامل تھے، تیار کئے لیکن مقابلے میں طالبان نے انتہائی سادہ طریقے سے بنائے جانے والے بموں اور دھماکوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھا دی، دھماکے بڑھے تو امریکی جرنیلوں ڈیوڈ پیٹریاس اور جنرل میکرسٹل نے حکمت عملی تشکیل دی کہ ”ہم گاڑیوں سے باہر نہیں نکلتے، عام لوگوں سے نہیں ملتے تو حملے لازماً بڑھیں گے۔ ہمیں فولادی قلعہ نما جنگی گاڑیوں سے نکل کر عوام میں جانا اور باہمی اعتماد پیدا کرنا ہو گا تاکہ وہ ہمیں اطلاعات دیں اور ہم ان بموں سے بچ جائیں“ لیکن اس حکمت عملی کا انجام اور بھی خطرناک نکلا کیونکہ گاڑیوں میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد نسبتاً کم تھی لیکن جب انہوں نے باہر نکلنا شروع کیا تو اموات اور تباہی کہیں بڑھ گئی، حالت یہاں تک پہنچی کہ امریکی فوج کی ٹاسک فورس نے جون 2011ءمیں جنگ میں لگنے والے فوجیوں کے نئے قسم کے زخموں کو Dismount Complete Blast injury کا نام دے دیا جس میں ذہنی دباﺅ اور نقصان کے ساتھ ٹانگوں کے علاوہ نازک اعضا بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ جنوری 2011ءمیں JIEDDO کے سربراہ جنرل اوٹس نے واشنگٹن پوسٹ کو دیئے انٹرویو میں کھلا اعتراف کیا کہ We are Losing the IED fight in Afghanistan”ہم افغانستان دیسی بموں کی جنگ ہار رہے ہیں“۔
یوں اس تناظر میں دیکھیں تو منظر نامہ عجیب نظر آتا ہے کہ ایک طرف اندھی دولت، ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی کا اوج کمال، طاقت بے حساب اور دوسری طرف خالی ہاتھ یا زیادہ سے زیادہ ریت، پتھر اور کنکر پھر یہ کیا ہوا کہ امریکی رو پڑے.... جو کہتے تھے ہم اس قدر معزز و محترم ہیں کہ ہمارے کتوں کو بھی دنیا میں کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ آج انہی امریکیوں کی آنکھیں خون کے آنسو رو رہی ہیں، سب کچھ نامراد ٹھہراہے۔ کہانی نکھر کر سامنے آ رہی ہے.... وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ جو ہم کل کہتے تھے لوگ ماننے سے انکاری تھے۔ آج ماننے پر مجبور ہیں تو پھر مان لو.... امریکہ برباد.... جہاد کامیاب.... یہی اللہ نے لکھا تھا اور یہی آج کا فیصلہ ہے۔
یہ اسی دن کا ایک اور لیکن امریکہ کے اندر کا منظر ہے۔ ریاست لاس اینجلس کے فوجی مرکز میں فوج کی 225 ویں ملٹی رول برج کمپنی کے 200 ماہر سپاہیوں کو افغانستان روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں سے نکلنے والی اپنی فوج کے لئے راہ ہموار کر سکیں اور وہاں افغان فوج کو انتظامات سنبھالنے کیلئے تیار کر سکیں۔ یہاں یہ فوجی بھی جمع ہیں اور ان کے اہل خانہ اور بچے بھی موجود ہیں۔ یہاں بھی منظر عجیب ہے، ہر بچہ اپنے فوجی باپ کو اور ہر عورت اپنے خاوند، بھائی یا بیٹے کو گلے لگا لگا کر اور چمٹ چمٹ کر رو رہی ہے کہ پتہ نہیں، یہ واپس بھی آئیں گے کہ نہیں۔ آہوں اور سسکیوں سے سارا ہال گونج رہا ہے لیکن کوئی کسی کو دلاسہ دینے والا نہیں سبھی رونے والے ہیں۔
ایسے مناظر آج کل امریکہ میں عام ہیں، جو فوجی واپس آ رہے ہیں، ان کے لواحقین انہیں زندہ سلامت پا کر روتے ہیں کہ چلو آیا تو سہی.... اگرچہ وہ اب پاگل ہے.... نفسیاتی مریض ہے، ہاتھ، پاﺅں یا ٹانگ سے محروم ہے یا اس کا چہرہ جل گیا ہے۔
یہی حال امریکہ کے صدر کا ہے جس کے بارے میں دنیا کہتی ہے کہ یہ دنیا کا طاقتور ترین انسان ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں وہ ایٹمی بٹن ہوتا ہے کہ جس کو اگر دبا دیا جائے تو ساری روئے زمین ایک بار نہیںبلکہ 6 بار جل کر مکمل خاکستر ہو جائے.... لیکن اس صدر کو اب یہ بٹن دبانے کی جرا¿ت و ہمت نہیں بلکہ اس کی طرف توجہ کی بجائے اب تو اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا؟وہ کبھی افغانستان سے بھری لاشوں سے ا ٓنے والے جہازوں کو دیکھ کر ایئر پورٹ پر روتاہے کبھی فوجیوں کی قبروں پر اور کبھی ماتمی مجلسوں میں.... امریکہ کی تاریخ میں اتنے آنسو شاید پہلے کسی صدر کے نہیں بہائے ہوں گے۔
ہر امریکی آج یہی سوچتا نظر آتا ہے کہ افغانستان کے 11 سال نے ہمارا حال کیا سے کیا کر دیا ہے؟ جی ہاں! یہ وہی امریکہ ہے کہ جو کل تک ”خدائی“ کا دعویدار تھا لیکن دشمن کے ہاتھوں مرنے پر نہ رونے والے افغانیوں نے ننگے پاﺅں اور ننگے جسم سے وہ حشر کردیا کہ غرور و تکبر کے سارے لبادے ہی اتر گئے۔ میرے سامنے اس وقت امریکی صحافی گیرتھ پورٹر کی چند روز پہلے کی ایک رپورٹ پڑی ہے جس کا عنوان ہے :
How the US Quietly Lost the IED War in Afghanistan
”امریکہ افغانستان میں دیسی ساختہ بموں کی جنگ کیسے مکمل طور پر ہار گیا“۔
صحافی لکھتا ہے کہ افغانستان میں سال 2012ءکی شہرت تو اس بات سے تھی کہ افغان فوج نے اندرونی جنگ میں اتحادیوں کو بے تحاشہ مارا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکہ دیسی ساختہ بموں یعنی IED Improvised Explosive Devices کی جنگ طالبان سے ہار گیا ہے۔ اگرچہ دعوے تو کئے جا رہے ہیں کہ دیسی ساختہ بموں کے دھماکے اور کارروائیاں کم ہو گئی ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں ہے، 2009ءسے 2011ءکے عرصے میں ایسے بموں سے امریکی اعتراف کے مطابق امریکی و اتحادی افواج پر 14627 حملے ہوئے۔2011ءمیں ان کی شرح میں اضافہ ہوا تھا۔امریکہ نے ان حملوں کو روکنے کیلئے{Jieddo} IED Defeat Joint Organization کے نام سے ادارہ بنایا۔ اس ادارے نے 18ارب ڈالر خرچ کر کے اعلیٰ اور حساس ترین آلات جن میں روبوٹ اور حساس کیمرے تک شامل تھے، تیار کئے لیکن مقابلے میں طالبان نے انتہائی سادہ طریقے سے بنائے جانے والے بموں اور دھماکوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھا دی، دھماکے بڑھے تو امریکی جرنیلوں ڈیوڈ پیٹریاس اور جنرل میکرسٹل نے حکمت عملی تشکیل دی کہ ”ہم گاڑیوں سے باہر نہیں نکلتے، عام لوگوں سے نہیں ملتے تو حملے لازماً بڑھیں گے۔ ہمیں فولادی قلعہ نما جنگی گاڑیوں سے نکل کر عوام میں جانا اور باہمی اعتماد پیدا کرنا ہو گا تاکہ وہ ہمیں اطلاعات دیں اور ہم ان بموں سے بچ جائیں“ لیکن اس حکمت عملی کا انجام اور بھی خطرناک نکلا کیونکہ گاڑیوں میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد نسبتاً کم تھی لیکن جب انہوں نے باہر نکلنا شروع کیا تو اموات اور تباہی کہیں بڑھ گئی، حالت یہاں تک پہنچی کہ امریکی فوج کی ٹاسک فورس نے جون 2011ءمیں جنگ میں لگنے والے فوجیوں کے نئے قسم کے زخموں کو Dismount Complete Blast injury کا نام دے دیا جس میں ذہنی دباﺅ اور نقصان کے ساتھ ٹانگوں کے علاوہ نازک اعضا بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ جنوری 2011ءمیں JIEDDO کے سربراہ جنرل اوٹس نے واشنگٹن پوسٹ کو دیئے انٹرویو میں کھلا اعتراف کیا کہ We are Losing the IED fight in Afghanistan”ہم افغانستان دیسی بموں کی جنگ ہار رہے ہیں“۔
یوں اس تناظر میں دیکھیں تو منظر نامہ عجیب نظر آتا ہے کہ ایک طرف اندھی دولت، ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی کا اوج کمال، طاقت بے حساب اور دوسری طرف خالی ہاتھ یا زیادہ سے زیادہ ریت، پتھر اور کنکر پھر یہ کیا ہوا کہ امریکی رو پڑے.... جو کہتے تھے ہم اس قدر معزز و محترم ہیں کہ ہمارے کتوں کو بھی دنیا میں کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ آج انہی امریکیوں کی آنکھیں خون کے آنسو رو رہی ہیں، سب کچھ نامراد ٹھہراہے۔ کہانی نکھر کر سامنے آ رہی ہے.... وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ جو ہم کل کہتے تھے لوگ ماننے سے انکاری تھے۔ آج ماننے پر مجبور ہیں تو پھر مان لو.... امریکہ برباد.... جہاد کامیاب.... یہی اللہ نے لکھا تھا اور یہی آج کا فیصلہ ہے۔
Sunday, November 4, 2012
اسلامی مدرسوں کی شان سنو
Saturday, November 3, 2012
Subscribe to:
Posts (Atom)



